کراچی (25 ستمبر 2025): پاکستانی بیٹنگ لائن کی مسلسل ناکامی کے بعد بابر اعظم کو واپس لانے کا مطالبہ بڑھ گیا سابق کپتان بھی ہمنوا ہو گئے۔
یو اے ای میں جاری ایشیا کپ اور اس سے قبل کھیلی گئی سہ فریقی ٹی 20 سیریز میں پاکستان کی بیٹنگ لائن مشکلات کا سامنا کرتی دکھائی دی۔ کمزور ٹیموں کے خلاف بھی میچ بہت سنسنی خیز بنا کر جیتے گئے۔
ایسے میں پاکستان کے ٹی 20 فارمیٹ کے سب سے کامیاب بیٹر بابر اعظم کی مختصر دورانیے کی کرکٹ میں واپس لانے کے مطالبے میں تیزی آ گئی ہے۔ پہلے یہ مطالبہ کرکٹ شائقین کی جانب سے کیا جا رہا تھا، تاہم اب اس میں سابق قومی کپتان کی آواز بھی شامل ہو گئی ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد حفیظ نے ایک نجی ٹی وی کے اسپورٹس پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی ٹیم بابر اعظم کے بغیر ادھوری ہے۔ قومی ٹیم چاہے ایشیا کپ جیتے یا نہ جیتے، بابر اعظم کو ٹیم میں ہر صورت واپس لایا جائے۔
محمد حفیظ نے کہا کہ اس وقت ٹیم کو بابر اعظم سمیت تین کھلاڑیوں کی اشد ضرورت ہے۔ نسیم شاہ کو بھی لازمی ٹیم میں ہونا چاہیے جب کہ محمد حارث انٹرنیشنل کرکٹ میں ایڈجسٹ نہیں ہو پا رہے، اس لیے محمد رضوان کو بھی واپس لایا جائے۔
سابق کپتان کا کہنا تھا کہ ٹھیک ہے، ان تینوں نے ماضی میں غلطیاں ہوئی ہیں، مگر وہ اس وقت کسی اور زون میں تھے۔ منیجمنٹ ان تینوں کو بٹھا کر بات کرے۔ ان سے پرفارمنس لینے اور کھلانے کا طریقہ بھی منیجمنٹ نے ہی طے کرنا ہے۔
محمد حفیظ کا کہنا تھا کہ یہ ایسے کھلاڑی ہیں، جو کسی بھی کنڈیشن کسی بھی ٹیم کے خلاف کھیل سکتے ہیں۔ ان کی ٹیم میں واپسی سے اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔
انہوں نے سلمان علی آغا کی حالیہ بیٹنگ پرفارمنس کے حوالے سے کہا کہ وہ بہت اچھا بیٹر ہے، تاہم کپتانی کا پریشر اس کی بیٹنگ کو متاثڑ کر رہا ہے۔ وہ خود کو اس دباو سے آزاد کرے اور اپنی بیٹنگ کا ٹیلنٹ دکھائے۔ اگر وہ اسی طرح انڈر پریشر کرکٹ کھیلتا رہا تو زیادہ وقت تک سروائیو نہیں کر سکے گا۔
کہاں تم چلے گئے! شائقین کرکٹ کو بابر اعظم اور رضوان کی یاد ستانے لگی


