The news is by your side.

Advertisement

بابر غوری کی گرفتاری، اے آر وائی نیوز نے مکمل تفصیلات حاصل کر لیں

کراچی: سابق وزیر پورٹ اینڈ شپنگ بابر غوری کی گرفتاری کس مقدمے میں عمل میں آئی ہے، اے آر وائی نیوز نے مکمل تفصیلات حاصل کر لیں۔

تفصیلات کے مطابق بابر غوری کو 2015 کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے، سائٹ سپر ہائی وے تھانے میں شہری کی جانب سے ایک مقدمہ درج کروایا گیا تھا، جس میں شامل تمام دفعات دہشت گردی کی ہیں۔

شہری کے مطابق ٹی وی پر بانی ایم کیو ایم کی ایک تقریر چل رہی تھی، جس میں ملک کے خلاف سازش، دو قومی نظریے اور دیگر سنگین نوعیت کی باتیں کی جا رہی تھیں، جس میں رابطہ کمیٹی اور دیگر عہدیدار نہ صرف تالیاں بجا کر حوصلہ بڑھا رہے تھے بلکہ حمایت بھی کر رہے تھے۔

ایف آئی آر میں بابر غوری سمیت 30 عہدیداران کے نام ہیں، جن میں ضمیر الحسن، کیف الوریٰ، عارف ایڈووکیٹ، کاظم رضا، کامران احمد، کامران عثمانی، جمال اور وسیم قریشی، خواجہ اظہار الحسن، وسیم اختر، قمر منصور اور ریحان ہاشمی کے نام شامل ہیں۔

مقدمے میں فاروق ستار، خالد مقبول صدیقی، رؤف صدیقی، رشید گوڈیل، سلمان مجاہد بلوچ، سیف یار خان، اسلم، طیب ہاشمی، فیصل سبزواری، رضا ہارون، نسرین جلیل، عامر خان، شعیب بخاری، ڈاکٹر سلیم حیدر، عبدالعزیز، نور جان اور حیدر عباس رضوی کے نام بھی شامل ہیں۔

بابر غوری کے وکیل کا مؤقف سامنے آ گیا

بابر غوری کو دہشت گردی دفعات کے تحت درج اسی مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے، جس میں ذرائع کے مطابق ضمانت حاصل نہیں کی گئی تھی، ذرائع کے مطابق بابر غوری کو گرفتاری کے بعد ایسٹ زون ڈسٹرکٹ ملیر میں رکھا گیا ہے، جہاں سے آج ممکنہ طور پر کسی بھی وقت انسداد دہشت گردی ایسٹ کی عدالت میں انھیں پیش کر دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ بابر غوری کو گزشتہ روز امریکا سے وطن واپسی پر کراچی ایئر پورٹ پر گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا، ان کے وکیل غلام شبیر شاہ نے کہا کہ بابر غوری کی گرفتاری توہین عدالت ہے، جو مقدمات ہمارے سامنے تھے ان میں بابر غوری کی حفاظتی ضمانت حاصل کر لی گئی تھی، اس کے باوجود انھیں گرفتار کر لیا گیا۔

ایم کیو ایم رہنما بابر غوری کراچی ایئرپورٹ سے گرفتار

وکیل نے آج سندھ ہائی کورٹ سے 2 مقدمات میں ضمانت میں توسیع کی استدعا کر دی ہے، انھوں نے عدالت سے کہا کہ بابر غوری کے خلاف کتنے مقدمات ہیں، یہ جاننے کے لیے الگ کیس دائر کر رہے ہیں، پولیس بتائے کہ میرے مؤکل کے خلاف کتنے مقدمات درج ہیں، خدشہ ہے کہ بلائنڈ کیسز میں نامزد کر دیا جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں