The news is by your side.

Advertisement

بابری مسجد کی شہادت میں ملوث ہندو انتہا پسند شہری نے اسلام قبول کرلیا

میں اُن لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے سب سے پہلے مسجد کے گنبد کو نشانہ بنایا

نئی دہلی: بابری مسجد کی شہادت میں ہندو نوجوان بلیر سنگھ نے 25 برس بعد خاموشی توڑتے ہوئے بتایا ہے کہ اُس نے سانحے کے چند روز بعد ہی اسلام قبول کرلیا تھا اور اب وہ بھارت کے مختلف علاقوں میں مساجد تعمیر کررہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بچیس برس قبل ہندو شدت پسندوں نے ایودھیا میں واقع بابری مسجد پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں اُسے شہید کر دیا گیا تھا، انتہا پسندوں کی قیادت کرنے اور مسلمانوں سے نفرت رکھنے والے جتھے کی قیادت کرنے والا نوجوان بلیر سنگھ تھا۔

بھارتی میڈیا میں 25 برس بعد منظر عام پر آنے والے ہندو نوجوان بلیر نے بتایا کہ وہ مسلمان ہوگیا اور اُس کا اسلامی نام محمد عامر ہے، وہ اپنے کیے پر نادم ہے اور وہ اب گناہ کا  کفارہ ادا کرنے کے لیے بھارت میں مساجد تعمیر کررہا ہے۔

عامر نے بھارتی میڈیا کو اپنے حالات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ’میں راجپوت ہوں اور میری پیدائش پانی پت کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں میں ہوئی، 10 برس کی عمر میں مجھے ہندو انتہا پسند تنظیم (آر ایس ایس) میںٰ شمولیت کا موقع ملا اور پھر میں شیوسینا کا کارکن بن گیا جس کے بعد مسلمانوں سے نفرت ہوگئی جبکہ میں ایسا نہیں تھا‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’شیوسینا کی تعلیمات پڑھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ مسلمانوں نے ہمارے ملک پر قبضہ کیا ہوا ہے، یہ بات آہستہ آہستہ دماغ میں ایسی بیٹھی کہ دسمبر کے پہلے ہفتے میں جب ہم دوست ایودھیا گئے تو سوچ کر گئے تھے کہ ’کچھ کیے بغیر واپس نہیں آئیں گے‘۔

بھارتی شہری کا کہنا تھا کہ ’جب ہم ایودھیا پہنچے تو ہرطرف ہزاروں کی تعداد میں آر ایس ایس کے کارکنان نظر  آئے جو بابری مسجد کی طرف پیش قدمی کررہے تھے اور میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا آگے آگے تھا جنہوں نے گبند کو نشانہ بنایا‘۔

محمد عامر کا کہنا تھا کہ ’جب ہم پانی پت واپس پہنچے تو ہیرو کی طرح استقبال ہوا مگر والد مجھ سے ناراض تھے اور انہوں نے گھر سے نکال دیا حتیٰ کہ وصیت بھی کی کہ آخری رسومات میں شرکت کی اجازت نہ دی جائے‘۔

بھارتی شہری کا کہنا تھا کہ ’گھر سے باہر نکلنے کے بعد مجھے ایک روز معلوم ہوا کہ بابری مسجد کی شہادت میں ملوث میرا قریبی دوست یوگندرا پال مسلمان ہوگیا، جس سے ملنے کے لیے پہنچا تو اُس نے بتایا کہ واقعے کے بعد دل بہت عجیب اور میں پاگل ہوگیا تھا، پھر میں نے اسلام قبول کیا۔

عامر نے بتایا کہ دوست نے مولانا کلیم صدیقی کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا، وہ مجھے بھی اُن کے پاس لے گیا جہاں پہنچ کر میں نے بابری مسجد کو شہید کرنے کے گناہ کا اعتراف کیا، انہوں نے مجھے تسلی دی اور اسلام قبول کروایا۔

مولانا کلیم صدیقی نے ہمیں مشورہ دیا کہ تم نے علم نہ ہونے کی وجہ سے ایک مسجد کو نقصان پہنچایا، اپنے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے اب تم لوگ مساجد کی تعمیر میں کسی بھی طریقے سے کردار ادا کرو۔

مسلمان ہونے والے بھارتی شہری کا کہنا تھا کہ ’اپنے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے میں نے گزشتہ 20 سالوں میں متعدد مساجد کی تعمیر و مرمت کا کام کروایا، شمالی بھارت میں 90 سے زائد مساجد کی تعمیر میں حصہ ڈالا جبکہ میری خواہش ہے کہ مرنے سے قبل 100 مسجدیں تعمیر  میں حصہ لوں‘۔

عامر کا کہنا تھا کہ میں نے مسلمان ہونے کے بعد مولانا کلیم کے مدرسے سے قرآن مجید ترجمے سے پڑھا اور عربی زبان کی تعلیم حاصل کی، بعد ازاں اسی مدرسے میں معلم کے فرائض انجام دیے، سنہ 1993 میں میرے اہل خانہ نے مجھے معاف کردیا اور پھر میری اہلیہ بھی میرے پاس واپس آگئی ،کچھ عرصہ بعد اس نے بھی اسلام قبول کرلیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں