The news is by your side.

Advertisement

بابری مسجد کیس، بھارتی سپریم کورٹ نے ایل کے ایڈوانی سمیت بی جے پی رہنماؤں کو ملوث قرار دے دیا

نئی دہلی : بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد شہادت کیس میں بڑا فیصلہ دیتے ہوئے ایل کے ایڈوانی سمیت دیگر بی جے پی رہنماؤں کا نام کیس میں شامل کرنے کا حکم دے دیا۔ 

بھارتی سپریم کورٹ میں بابری مسجد کیس کی سماعت ہوئی ، سماعت کے دوران عدالت نے حکم دیا کہ بابری مسجد شہید کرنے کی مہم چلانے اور لوگوں کواکسانے میں پیش پیش بی جے پی رہنما ایل کے ایڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی کا نام مقدمے میں شامل کیا جائے،  اس معاملہ میں صرف کلیان سنگھ کو امیونٹی دی گئی ہے کیونکہ وہ گورنر ہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ بابری مسجد شہادت کیس میں تمام 13 ملزمان پر دفعہ 120 بی کے تحت فوجداری مقدمہ چلایا جائے گا۔ ساتھ ہی اس معاملے کی سماعت کر رہے ججوں کا ٹرانسفر تب تک نہیں ہوگا جب تک سماعت مکمل نہیں ہو جاتی۔

بابری مسجد کیس کی سماعت لکھنؤ کی عدالت میں روزانہ ہوگی۔

اس سے قبل بی جے پی نیتاؤں کو بچانے کے لئے ایڈوانی سمیت دیگرکا نام مقدمے سے نکال دیا گیا تھا، جس کے خلاف مرکزی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی نے سپریم کورٹ میں درخواست دی تھی۔

گذشتہ سماعت میں سی بی آئی نے عدالت کو بتایا تھا کہ ایڈوانی اور دیگر 12 افراد بابری مسجد کو گرانے کی سازش کا حصہ تھے اس لیے ان سیاستدانوں کے خلاف الزامات پر دوبارہ بحث ہونا چاہیے جبکہ الہ آباد ہائی کورٹ کے لکھنو بینچ نے نچلی عدالت کے حکم کو برقرار رکھا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد شہید کرنیوالوں کیخلاف فیصلہ دینے سے انکار کردیا تھا۔


مزید پڑھیں : بابری مسجد کیس، سپریم کورٹ نے معاملہ بات چیت سے حل کرنے کا مشورہ دے دیا


یاد رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کی سماعت پر فریقین کو مسئلہ عدالت سے باہر حل کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ فریقین معاملہ بات چیت سے حل کریں، بات چیت سے مسئلہ حل نہ ہوا تو مداخلت کریں گے اور ثالثی کا کردار ادا کریں گے۔

خیال رہے کہ انتہاپسندوں نے 1992 میں سولہویں صدی کی تاریخی بابری مسجد کو شہید کردیا تھا اور مسجد کی شہادت کے بعدفسادات میں دوہزارسے زائد مسلمانوں کوشہید کردیا گیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں