site
stats
عالمی خبریں

بابری مسجد کیس، سپریم کورٹ نے معاملہ بات چیت سے حل کرنے کا مشورہ دے دیا

نئی دہلی : بھارت میں مسلمان انصاف سے محروم ہے، پچیس سال سے زائد عرصے بعد بھی بابری مسجدکیس کافیصلہ نہ ہوسکا، سپریم کورٹ نے معاملہ بات چیت سے حل کرنے کا مشورہ دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق نام نہاد سیکولر بھارت میں اقلیت بالخصو ص مسلمان ہوناجرم ہے اور انصاف کا حصول کم و بیش نا ممکن ہوتا جارہا ہے، چوتھائی صدی سے زائد کا عرصہ بیت گیا لیکن بابری مسجد کی شہادت سے متعلق کیس کا فیصلہ نہ ہوسکا۔

بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کی سماعت پر فریقین کو مسئلہ عدالت سے باہر حل کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ فریقین معاملہ بات چیت سے حل کریں، بات چیت سے مسئلہ حل نہ ہوا تو مداخلت کریں گے اور ثالثی کا کردار ادا کریں گے۔

مسلم دشمن بی جے پی اور بابری مسجد کی شہادت میں شریک دیگر ہندو جماعتیں عدالتی ریمارکس سے خوش ہیں۔


مزید پڑھیں : بابری مسجد شہادت کیس، مقدمے کی سماعت میں تاخیر پر بھارتی سپریم کورٹ کا اظہارِ تشویش


یاد رہے چند روز قبل بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی شہادت کے مقدمے کی سماعت میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور انتہا پسند ہندو جماعت بی جے پی کے سینئر رہنما اوربابری مسجد کی شہادت میں پیش پیش ایل کے ایڈوانی کا نام کیس سے خارج کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایل کے ایڈوانی، اوما بھارتی، مرلی منوہر جوشی کا نام تکینکی بنیادوں پرخارج نہیں کیا جاسکتا۔

واضح رہے کہ ایودھیا میں واقع تاریخی بابری مسجد کو ہندو انتہا پسندوں نے انیس سوبانوے میں شہید کردیا تھا، مسجد کی شہادت کے بعد احتجاج کرنے پر سیکڑوں مسلمانوں کو بھی شہید کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ ہندو تنظیموں نے یہ دعویٰ کر رکھا ہے کہ وہ جگہ بھگوان رام کی جائے پیدائش ہے اور مغل شہنشاہ ظہیر الدین محمد بابر نے 1528ء میں مندر گرا کر اس اراضی پر بابری مسجد تعمیر کرائی تھی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top