The news is by your side.

Advertisement

بغیر چہرے والا بچہ اسپتال سے گھر منتقل

لسبون : پرتگال میں ڈاکٹرز نے بغیر چہرے کے جنم لینے والے بچے کو 40 بعد اسپتال سے ڈسچارج کردیا حالانکہ ڈاکٹرز نے پیش گوئی کی تھی کہ یہ بچہ چند گھنٹے ہی زندہ رہ پائے گا۔

تفصیلات کے مطابق پرتگال میں خاتون نے ایسے بچے کو جنم دیا تھا جس کی آنکھیں، ناک اور سر کا کچھ حصّہ ہی غائب ہے جبکہ خاتون کے ڈاکٹر پر بطن مادر میں بچے میں موجود کمی و خامی کے بارے میں پتا نہ لگانے اور علاج میں غفلت برتنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ شیر خوار بچے کو سانس لینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اس کی صحت ہر وقت بہتر ہوتی جارہی ہے۔

معذور بچے کے والدین کو امید ہے کہ ان کے بچے کی صحت میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید بہتری آتی جائے گی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر کاروالہو کو غفلت برتنے کے جرم میں برطرف کردیا گیا ہے۔

جنوبی پرتگال کی میڈیکل ایسوسی ایشن کی صدر الیکژنڈر ویلینٹیم لورینزو نے کہا تھا کہ ڈاکٹر آرٹور کاروالہو کی جانب سے غفلت برتنے کے ثبوت ملے ہیں انہیں اس کی کڑی سزا ہوسکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کہ اس کیس میں ڈاکٹر کا معطل کرنا ضروری تھا کیونکہ اس کے نتیجے میں حاملہ خاتون کی شکایت کا الزالہ کرنا اور ڈاکٹروں کی ساکھ و عزت و وقار کو بچانا ہے۔

بغیر چہرے والے بچے کی پیدائش، شہری خوفزدہ

مقامی میڈیا کے مطابق 7 اکتوبرکو دارالحکومت سے 40 کلو میٹر دور سا برنارڈو اسپتال میں ایک آپریشن کے دوران ایک بچے کو جنم دیا تھا، اس بچے کی آنکھیں، ناک اور دماغ کا کچھ حصہ نہیں تھا اس کے علاوہ کئی دیگر نقائص بھی موجود تھے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ خاتون کے حمل کے دوران دیکھ بحال کرنے والے ڈاکٹر نے بطن مادر میں موجود بچے کے نقائص کے بارے میں کسی قسم کی جان کاری حاصل نہیں کی جس کی بنا پر اسے کام سے روک دیا گیا ہے۔

والدین کا کہنا تھا کہ حمل کے چھ ماہ کے بعد جب ڈاکٹر سے کہا گیا کہ وہ بچے کے بارے میں تفصیلی معائنہ کرے تو اس نے بغیر کسی علاج معالجے یا دیکھ بحال کے انہیں بچے کے تندرست ہونے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں