The news is by your side.

Advertisement

’’اب میں اپنے بچے کو پیار کرسکتی ہوں‘‘

ٹیکساس: امریکا میں پیدا ہونے والے بغیر جلد کے بچے کو بچانے کے لیے ڈاکٹرز نے ٹرانسپلانٹ کا کامیاب تجربہ کیا۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکا کے شہر ٹیکساس میں دس ماہ قبل پیدا ہونے والے بچہ جلد کے بغیر تھا، ڈاکٹرز نے نومولود اور ماں کو گھر جانے کی اجازت دے دی تھی۔

ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ بچے کا مرض لاعلاج اور اس کی نشوونما ہونا ناممکن ہے۔ والدین نے بچے کا نام جابیری گرے رکھا جس کی پیدائشی طور پر پلکیں اور گردن سے پاؤں تک جلد موجود نہیں ہے۔

بچےکی والدہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز نے ہمیں بہت زیادہ خوف زدہ کردیا تھا البتہ ہم نے ہار نہیں مانی اور جابیری گرے کو اسی حالت میں لے کر ہیوسٹن کے چلڈرن اسپتال پہنچے۔

خاتون کا کہنا تھا کہ میں نے ڈاکٹرز کو تمام تفصیلات فراہم کردیں اور بتایا کہ دورانِ حمل کوئی پیچیدگی پیش نہیں آئی البتہ میں بہت پریشان تھی کیونکہ لوگ بیٹے کو گود میں لینے کے بجائے اُس سے خوف زدہ ہوتے ہیں۔

ڈاکٹرز کے مطابق بچے کو جینیاتی بیماری ہےجسے ’’ایپی ڈر مولئیوسس بلوسا‘‘ کہا جاتا ہے، یہ بیماری ہزار میں سے کسی ایک بچے کو ہوتی ہے اور جو اس سے متاثر ہو وہ بچہ بغیر جلد کے ہی پیدا ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈاکٹرز نے بچے کے کچھ ٹیسٹ کرنے کے بعد مصنوعی جلد تیار کی اور ٹرانسپلانٹ کے ذریعے گردن سے پاؤں تک کھال کو لگایا۔ والدین نے بچے کا آپریشن کامیاب ہونے پر خوشی کا اظہار کیا اور ڈاکٹرز کا شکریہ بھی ادا کیا۔ والدہ کا کہنا تھا کہ اب میں اپنے بچے کو گود میں لے کر باہر گھوم سکتی ہوں اور اسے پیار بھی کرسکتی ہوں‘‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں