site
stats
حیرت انگیز

اپنی ماں کو کھانے والے جاندار

آپ نے ہارر فلموں میں ایسی کئی کہانیاں دیکھی ہوں گی جس میں انسان ایک دوسرے کو یا کوئی جانور اپنی ہی جنس کے دوسرے جانور کو کھاتے ہیں۔ سائنسی طور پر یہ عمل اس وقت وقوع پذیر ہوسکتا ہے جب کسی جاندار کے جینز میں غیر معمولی تبدیلی رونما ہوجائے۔

تاہم ایسے تمام واقعات فلموں تک ہی محدود ہیں اور اصل زندگی میں ایسا واقعہ بہت کم سننے میں آتا ہے۔

لیکن آج ہم آپ کو حقیقی زندگی کی ایسی ہی مثال سے آگاہ کرتے ہیں جس میں جانداروں کی ایک قسم اپنی ماں کو کھا جاتی ہے۔

مزید پڑھیں: 400 سال تک زندہ رہنے والی شارک

یہ جاندار بغیر ٹانگوں کے، زمین پر رینگنے والے، لمبے کیڑے نما جانور ہیں جنہیں سیسیلنز یا کیچوا کہا جاتا ہے۔ ان میں سے کچھ انواع انڈے دیتی ہیں جبکہ کچھ بچے دیتی ہیں۔

بچے دینے والی انواع نسبتاً بڑی عمر کے بچوں کو جنم دیتی ہے کیونکہ ان کی زیادہ تر افزائش ماں کے جسم کے اندر ہی ہوچکی ہوتی ہے۔

ایک عام مشاہدہ ہے کہ یہ بچے پیدا ہونے کے فوراً بعد اپنی ماں کے جسم پر گردش کرنے لگتے ہیں۔ جب اس سلسلے میں تحقیق کی گئی اور ان کی حرکات کو سکنات پر غور کیا گیا تو انکشاف ہوا کہ یہ بچے دراصل اپنی ماں کی جلد کو کھاتے ہیں۔

caecilians

یہ اس کی جلد کو چھلکوں کی طرح چھیل اور نوچ کر کھاتے ہیں۔

جب اس بارے میں مزید تحقیق کی گئی تو علم ہوا کہ ان جانداروں میں ماں کی بیرونی جلد مختلف معدنیات سے بھرپور ہوتی ہے جو اس کے نومولود بچوں کی غذائی ضروریات پوری کرتی ہے اور انہیں توانائی فراہم کرتی ہے۔

گویا یہ ایسا ہی عمل ہے جیسے کسی ممالیہ جاندار کے نومولود بچے کی سب سے بہترین، ابتدائی اور غذائیت بخش شے ماں کا دودھ ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: سفید رنگ کا حیرت انگیز زرافہ

اسی جاندار کی وہ اقسام جو نسبتاً بڑے بچوں کو جنم دیتی ہے، جب زیر تحقیق لائی گئیں تو دیکھا گیا کہ ماں کے جسم کے اندر جس حصے میں یہ بچے پرورش پاتے ہیں، اس حصے کی بیرونی تہہ کو (اندر سے) کھا کر اپنی غذا حاصل کرتے ہیں۔

چونکہ ان جانداروں کا جسم حصوں میں تقسیم ہوتا ہے اور ان پر لکیریں بنی ہوتی ہیں، تو بچوں کے کھانے کے بعد ماں کے مذکورہ حصے کی لکیریں ختم ہوجاتی ہیں جو کچھ عرصہ بعد دوبارہ ابھر آتی ہیں۔

caecilians-2

اپنے ہی خاندان کو کھانے کی ایک اور مثال شارک کی ایک انواع میں بھی دیکھی گئی جسے سینڈ ٹائیگر شارک کہا جاتا ہے۔

shark-2

اس شارک میں انڈے ماں کے جسم کے اندر ہی افزائش پاتے ہیں، حتیٰ کہ ان انڈوں سے بچے نکل آتے ہیں۔ یہ سارا عمل ماں کے جسم کے اندر ہی وقوع پذیر ہوتا ہے۔

انڈوں سے بچے نکلنے کے بعد کوئی ایک بچہ جو قدرتی طور پر مضبوط اور طاقتور ہوتا ہے، ان انڈوں کو کھانا شروع کردیتا ہے جن سے ابھی بچے نہیں نکلے ہوتے۔ اس کے بعد ان بچوں کی باری آتی ہے جو نسبتاً کمزور اور چھوٹے ہوتے ہیں۔

shark

یہ ایک طاقت ور بچہ تمام انڈوں اور دیگر بچوں کو کھا کر اپنی افزائش کا مقررہ وقت پورا کرنے کے بعد ماں کے جسم سے باہر نکل آتا ہے۔

گویا یوں کہا جائے کہ شارک کے یہ بچے پیدائش کے وقت سے ہی کمزور اشیا کو کھانے کی تربیت حاصل کرچکے ہوتے ہیں تو غلط نہ ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top