The news is by your side.

Advertisement

17ماہ کے بچے نے بٹن بیٹری نگل لی، والدین حواس کھو بیٹھے

چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال کے سلسلے سے والدین عام طور پر بہت زیادہ حساس ہوتے ہیں کیونکہ بچے جب چھوٹے ہوتے ہیں تو ان کو اس بات کا اندزہ نہیں ہوتا کہ کیا چیز ان کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

ایسے میں والدین کی ذرا سی بے احتیاطی ان کو اور ان کے بچے کو بڑے خطرات سے بھی دو چار کر سکتی ہے۔ ایسا ہی ایک افسوسناک واقعہ 32 سالہ کرسٹین میکڈونلڈ اور28 سالہ ہگ کے بچے کے ساتھ پیش آیا سترہ ماہ کا معصوم بچے ہگی نے کھیل کے دوران ایک کھلونے کی بٹن بیٹری نگل لی۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق بٹن بیٹری جب بچے کے حلق میں پھنسی تو پریشان حال والدین کو اس بات کا اندازہ نہ ہو سکا کہ بچے کے حلق میں کیا پھنسا ہے؟

Baby Hugh McMahon

اس بچے کی سانس لینے میں دشواری کو محسوس کرتے ہوئے والدین اس کو فوری طور پر ہسپتال لے کر بھاگے مگر تب تک بیٹری بچے کے حلق سے اس کے پیٹ میں جاچکی تھی۔

ڈاکٹروں کے مطابق بچے کو سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا تھا جس کی وجہ سے اس کو فوری طور پر آکسیجن لگا دی گئی تھی اس وقت میں جانچ کے بعد ان کو اندازہ ہوا کہ بچے کا خون تیزی سے تیزابی ہو رہا ہے اور اس بیٹری کے جسم کے اندر پھٹ جانے کی وجہ سے خون زہر آلود ہوتا جا رہا ہے

Hugh McMahon

بیٹری کے جسم کے اندر پھٹنے کی وجہ سے بچے کے دل کے اندر سوراخ ہو چکا ہے اور جسم سے خون باہر کی طرف بہنا شروع ہو چکا ہے جو کہ کسی بھی صورت جم نہیں رہا تھا اور ہگی کے منہ اور ناک کے راستے خون کا بہاؤ جاری تھی۔

اس موقع پر اس کی ماں کا یہ کہنا تھا کہ وہ اس سے قبل بٹن بیٹری کے ان خطرناک اثرات سے لا علم تھیں اور انہوں نے ہمیشہ اس بات کی کوشش کی کہ ان کے بچے کو کہیں گرنے سے یا پھر کرنٹ سے یا پھر کسی زہریلی چیز سے نقصان نہ پہنچ جائے مگر وہ لاعلم تھیں کہ بچے کو اس کے اپنے کھلونے سے نقصان پہنچ  سکتا ہے۔

ہگی کی حالت وقت کے ساتھ ساتھ بگڑتی جا رہی تھی یہاں تک کہ ڈاکٹروں کو اس کی زندگی کو بچانے کے لیۓ مجبوراً وینٹی لیٹر پر شفٹ کرنا پڑا مگر دو دن تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد ہگی والدین کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ گیا۔

ہگی کی والدہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اس واقعے کے ذریعے وہ تمام والدین کو یہ پیغام دینا چاہتی ہیں کہ بچوں کے کھلونوں میں موجود بیٹری بہت خطرناک ہوتی ہے اور تمام والدین کو چاہیے کہ وہ اس کے استعمال میں خصوصی احتیاط کریں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں