The news is by your side.

Advertisement

چارسدہ میں دہشت گردی کی اطلاع ایک ماہ قبل دی گئی تھی

پشاور : باچاخان یونیورسٹی پشاور پرحملےسے تقریبا ایک ماہ قبل چارسدہ میں خوفناک دہشت گرد حملےکاالرٹ جاری کردیا گیا تھا،اس حوالے سے وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت اورسیکورٹی حکام کوتحریری طورپرآگاہ کیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی وزارت داخلہ نے چودہ دسمبردوہزارپندرہ کوساڑھے آٹھ بجے تھریٹ الرٹ جاری کیا۔ یہ خط خیبرپختونخوا کے سیکرٹری داخلہ،پولیس اورایف سی کے اعلٰی حکام کو بھیجا گیا۔

خط میں کہا گیا تھا کہ دہشت گردوں کاطارق گیدڑعمرنارے گروپ تین خودکش دہشت گرد چارسدہ بھیج رہا ہے۔ لیکن خط کے مطابق ان دہشت گردوں کا نشانہ چارسدہ کی باچاخان یونیورسٹی نہیں،ایک اورمقام تھا۔

خط میں خبردارکیا گیا کہ دہشت گرد ڈسٹرکٹ کورٹ چارسدہ کونشانہ بنائیں گے۔ وفاقی حکومت کے خط میں بتایا گیا کہ تین دہشت گردعباس سواتی، سیف اللہ افغان اورایک اورافغان شخص رکشےسےعدالت کے گیٹ پراتریں گے۔

دودہشت گرد خود کو پولیس اسپیشل برانچ کا اہلکارظاہرکریں گے،خودکش بمبارعباس کے ہاتھوں میں ہتھکڑی لگی ہوگی، دہشت گرد ایسا ظاہرکریں گے کہ جیسےعباس ملزم ہے اوراسے جج کے سامنےپیش کرنا ہے۔

خط کے مطابق یہ تینوں عدالت میں داخل ہوں گے،عباس خود کودھماکے سے اڑائےگا، دوسرے دودہشت گرد اندھادھند فائرنگ کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ جانی نقصان ہوسکے۔

اس خط میں دہشت گردی سےمتعلق کئی معلومات درست تھیں البتہ مقام کی اطلاع درست نہ نکلی۔ تاہم وفاقی حکومت کے خط میں کچھ باتیں درست اورکچھ غلط نکلیں،چارسدہ یونیورسٹی پرحملہ کرنے والے گروپ کاتعلق طارق گیدڑگروپ سے ہی تھا،۔

خط میں تین دہشت گردوں کی نشاندھی کی گئی۔ چارسدہ یونیورسٹی میں چاردہشت گرد داخل ہوئے،خط میں کہا گیا وہ خود کو پولیس اہلکارظاہرکریں گے۔

عینی شاہدین کے مطابق چارسدہ حملےمیں دہشت گردوں نےایسا ہی کیا،لیکن نشاندھی کی سب سے بڑی غلطی مقام کی تھی، وفاقی حکومت نے خطرہ ظاہرکیا کہ حملہ ڈسٹرکٹ کورٹ پر ہوگا۔ لیکن دہشت گردی کاواقعہ باچا خان یونیورسٹی میں پیش آیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں