The news is by your side.

Advertisement

جب کراچی میں رکشہ چلانے والے بدر منیر پر قسمت مہربان ہوئی!

بدر منیر کراچی میں رکشہ چلاتے تھے۔ وہ صرف سنیما اور فلم کے دیوانے نہیں تھے، خود بھی اداکار بننا چاہتے تھے۔ یہ ان کا ایک خواب تھا جس کی تعبیر ملنا آسان نہ تھا۔

بدر منیر نے ایک روز رکشہ چھوڑ کر کار ڈرائیور بننے کی ٹھانی، لیکن یہ سب ایک منصوبے کے تحت کیا اور اس کے ساتھ ہی وہ فلم اسٹار وحید مراد کے فلمی دفتر پہنچ گئے۔ وہاں‌ بدر منیر نے ڈرائیور کے طور پر ادارے کے لیے اپنی خدمات پیش کیں، لیکن اس وقت ڈرائیور کی ضرورت نہیں‌ تھی۔ بدر منیر کو دفتر میں چائے بنانے اور چھوٹے موٹے کام انجام دینے کے لیے رکھ لیا گیا۔

1966ء کی بات ہے جب وحید مراد کی فلم ’ارمان‘ سُپر ہٹ ہوئی تو بدر منیر نے مالک کو اس کی کام یابی پر خوش دیکھ کر اپنے دل کی بات کہہ دی۔ اور وحید مراد نے کچھ عرصے بعد انھیں فلم ’جہاں ہم وہاں تم‘ میں ایک چھوٹا سا کردار دِلوا دیا۔

اس فلم کے بعد دو تین برس تک بدر منیر نے مزید فلموں‌ میں‌ چھوٹے موٹے کردار نبھائے اور 1970ء میں ان کی قسمت کا ستارہ چمک اٹھا۔ انھیں‌ پشتو فلموں‌ کے ہیرو کے طور پر بے مثال شہرت اور مقبولیت نصیب ہوئی۔ انھوں نے اس سال پشتو فلم ’یوسف خان شیر بانو‘ میں‌ مرکزی کردار نبھایا جو پاکستان میں اس زبان میں‌ بننے والی اوّلین فلم تھی۔

بدر منیر نے ساڑھے چار سو سے زیادہ پشتو اور اردو فلموں میں کام کیا۔ وہ پشتو فلم کی معروف ہیروئنوں کے ساتھ پردے پر نظر آئے اور شائقین کی توجہ حاصل کی۔ اگرچہ بدر منیر پشتو اداکار کی حیثیت سے مشہور ہیں‌ ہے، لیکن اردو فلموں کے شائقین نے بھی انھیں پسند کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں