The news is by your side.

Advertisement

بغداد دھماکا: آدھے گھنٹے پہلے بیوی اور بیٹے کو مارکیٹ چھوڑنے والے شخص کی دل خراش داستان

عراق سے تعلق رکھنے والا بدقسمت باپ دھماکے سے قبل اپنے اہل خانہ کو مارکیٹ چھوڑنے گیا اور پھر وہاں دھماکا ہوگیا، جس کی زد میں اُس کی بیوی اور بیٹا آیا اور دونوں اُس سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوگئے۔

عماد جاوید نے اپنی اہلیہ اور بیٹے کو عیدالاضحیٰ کی خریداری کے لیے بغداد کی مارکیٹ میں شام ساڑھے پانچ بجے چھوڑ کر گیا، اُسے اتنا سا بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ اب اپنی بیوی اور بچے کو دوبارہ زندہ نہیں دیکھ سکے گا۔

عماد نے اپنی اہلیہ اور بیٹے کو شام ساڑھے پانچ بجے کے قریب مارکیٹ چھوڑا، ٹھیک آدھے گھنٹے پر وہاں خود کش بمبار داخل ہوا، جس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

ایک روز قبل بغداد کی مارکیٹ میں عید الاضحیٰ کی مناسبت سے شہری اور خواتین خریداری میں مصروف تھے کہ اسی دوران زور دار دھماکا ہوا، جس میں چار ماہ کے بچے سمیت 36 افراد جاں بحق ہوئے۔

اس دھماکے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش (آئی ایس آئی ایس) نے قبول کی ہے۔ یاد رہے کہ ایک روز قبل بغداد کی مصروف ترین مارکیٹوں میں سے ایک الوحیلات مارکیٹ میں زور دار دھماکا ہوا تھا۔

عید قرباں سے ایک روز پہلے ہونے والے واقعے پر جہاں عراق کی فضا سوگوار ہے وہیں وہ والد بھی اُن میں شامل ہے، جس کا گھرانہ اجڑ گیا۔

عماد نے بتایا کہ ’میں اپنی 25 سالہ اہلیہ اور آٹھ ماہ کے بیٹے کایان کو مارکیٹ چھوڑ کر آیا، اللہ جانتا ہے کہ وہ بے گناہ تھے، انہوں نے کوئی قصور نہیں کیا تھا، اُن کے جانے سے پیدا ہونے والا خلا کوئی پُر نہیں کرسکتا‘۔

عماد بھی اُن لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کی لاشیں وصول کیں۔ متاثرہ باپ نے بیوی اور بیٹے کی میت وصول کرنے کے بعد کہا کہ ’اس دن نے میری پوری زندگی تبدیل کردی ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’میں دھماکے کا سُن کر فوراً مارکیٹ پہنچا اور پھر دونوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی، بعد ازاں مردہ خانے گیا جہاں ملازم کے ہاتھ میں کایان کی خون آلود دیکھی، اُسے میرے بچے کا نام تک معلوم نہیں تھا، بعد ازاں میں نے اپنی اہلیہ کی لاش بھی دیکھی‘۔

ماں اور بیٹے کے ایک ساتھ اٹھنے والے جنازے میں اہل علاقہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی، اس موقع پر جذباتی مناظر میں دیکھنے کو ملے جبکہ کایان کے بھائی علی کی حالت غیر تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں