تہران (09 جولائی 2026): پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف اس کی تازہ جارحیت کا جواب ضرور دیا جائے گا، انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن کو دھونس جمانے اور اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی قیمت چکانی پڑے گی۔
باقر قالیباف نے جمعرات کے روز ایکس (X) پر لکھا ’’امریکا نے اب تک یہ سبق نہیں سیکھا کہ دھونس جمانا اور اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کرنا اب بغیر قیمت چکائے ممکن نہیں رہا۔ میں واضح کر دینا چاہتا ہوں: اگر آپ حملہ کریں گے تو آپ کو بھی جواباً حملے کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘
انھوں نے لکھا ’’ بے سود کوششیں نہ کریں، کیوں کہ وہ صرف آپ کو مزید دلدل میں دھکیلیں گی۔ آبنائے ہرمز صرف ایران کی شرائط کے تحت کھلی رہے گی، امریکی دھمکیوں کے ذریعے نہیں۔‘‘
آمریکا هنوز یاد نگرفته است که زورگویی و بدعهدی دیگر بیهزینه نیست. شفاف بگویم: بزنید، میخورید.
دست و پای بیهوده نزنید که بیشتر فرو خواهید رفت: تنگه هرمز، فقط با «ترتیبات ایرانی» باز میشود نه با تهدیدات آمریکایی.
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) July 9, 2026
واضح رہے کہ جمعرات کی صبح سویرے امریکا نے مسلسل دوسری رات ایران میں متعدد مقامات، بالخصوص ملک کے جنوبی علاقوں، کو نشانہ بنایا، جسے اسلام آباد کی ثالثی میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
ادھر فوجی مشیر ایرانی سپریم لیڈر محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران حملہ آور دشمن اور اس کے اتحادیوں کے خلاف بھرپور ردعمل دے گا، اپنے بیان میں انھوں نے کہا ایران کسی بھی جارحیت کا سخت جواب دے گا اور حملہ آوروں کے ساتھ ان کے اتحادیوں کو بھی عبرت کانشان بنائے گا۔
امریکی حملے کے بعد تہران سے مشہد جانے والی ٹرین سروس معطل
دریں اثنا، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں اس بات پر اتفاق کیا کہ کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنا ناگزیر ہے۔
ایرانی میڈیا نے صدر ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے ایک علامتی تصویر جاری کی ہے۔ تصویر میں ٹرمپ کے دستخط کو سانپ کی شکل میں دکھایا گیا ہے، یعنی امریکا پر وعدہ خلافی کا الزام لگایا گیا ہے۔ تصویر کے ساتھ یہ پیغام بھی دیا گیا کہ ایران کو امریکی وعدوں پر بھروسا نہیں کرنا چاہیے۔


