واشنگٹن (04 جنوری 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک بار پھر افغانستان کے بگرام ایئر بیس سے متعلق بیان جاری کر دیا ہے۔
امریکی صدر نے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ افغانستان کے دارالحکومت کابل کے قریب واقع بگرام ایئر بیس واپس لیں گے اور کسی کو نہیں دیں گے، یہ ہوائی اڈہ امریکا نے اگست 2021 میں انخلا کے وقت طالبان کے قبضے سے کچھ ہی دیر قبل چھوڑ دیا تھا۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس 19 ستمبر کو ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ وہ بگرام ایئر بیس کو واپس حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اس مقام سے محض ایک گھنٹے کی دوری پر واقع ہے جہاں چین اپنے جوہری ہتھیار بناتا ہے۔ ٹرمپ نے یہ اشارہ بھی دیا تھا کہ افغانستان کو بھی امریکا سے کچھ چیزوں کی ضرورت ہے، یعنی ان چیزوں کے بدلے ایئر بیس لیا جا سکتا ہے۔
بگرام ایئر بیس کس کا ہے؟ حقیقت منظر عام پر آ گئی
تاہم، افغان وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں واضح کیا تھا کہ افغان حکومت بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن امریکا کو ملک میں فوجی موجودگی دوبارہ قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
چین نے بھی ٹرمپ کے بیان پر ردعمل میں کہا تھا کہ یہ بیان خطے میں کشیدگی کو ہوا دینا اور تصادم پیدا کرنے کے مترادف ہے، وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے کہا کہ چین افغانستان کی آزادی اور خود مختاری کا احترام کرتا ہے، افغانستان کا مستقبل افغان عوام کو خود طے کرنا چاہیے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


