The news is by your side.

Advertisement

بیروت دھماکا کیسے ہوا؟ سنسنی خیز انکشافات

بیروت: لبنان کے دارالحکومت بیروت کی بندرگاہ پر ہونے والے تباہ کن دھماکے کے سلسلے میں بندرگاہ کے کارکنوں نے دعویٰ کیا ہے کہ نہایت دھماکا خیز مواد امونیم نائٹریٹ کے ساتھ آتش بازی کے سامان کے بھرے تھیلے رکھے گئے تھے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق بیروت پورٹ کے ایک سابق ورکر یوسف شہدی نے کہا ہے کہ جس ہینگر میں ہزاروں ٹن پر مشتمل طاقت ور کیمیکل مرکب رکھا گیا تھا، عین وہیں پر آتش بازی کے سامان پر مبنی درجنوں بیگز بھی رکھے گئے تھے، جب کہ فوج نے کسٹمز کی شکایات کے باوجود خطرناک کیمیکل وہاں سے نہیں ہٹایا۔

رواں برس مارچ میں کینیڈا نقل مکانی کرنے والے یوسف شہدی نے برطانوی روزنامے کو بتایا کہ انھیں فوج نے پورٹ کے 12 نمبر گودام میں 2,750 ٹن کیمیکل رکھنے کی ہدایت کی تھی، اس خطرناک کیمیکل کے ساتھ 2009-10 میں کسٹم کے ضبط شدہ آتش بازی کے سامان کو بھی رکھ دیا گیا تھا، مذکورہ گودام میں 30 سے 40 نائلون کی تھیلیاں رکھی گئی تھیں جن کے اندر آتش بازی کا سامان تھا۔

یوسف شہدی نے بتایا کہ انھوں نے خود ذاتی طور پر ایک فورک لفٹ کے ذریعے آتش بازی کا سامان گودام میں رکھتے ہوئے دیکھا تھا۔

بیروت پورٹ کے سابق ملازم کا دعویٰ ہے کہ دھماکا مواد کے ساتھ آتش بازی کے سامان کی تھیلیاں بھی رکھی گئی تھیں

انھوں نے کہا کہ گودام میں آتش بازی کا سامان بائیں ہاتھ پر رکھا گیا تھا، میں نے اس کی شکایت بھی کی تھی، وہاں نمی بھی تھی، بلاشبہ ایک تباہ کن حادثے کا انتظار ہی کیا گیا ہے، کسٹمز والے بھی ہر ہفتے شکایت کرتے تھے کہ خطرناک کیمیکل کو لوگوں کے گھروں کے بہت قریب اسٹور کیا گیا ہے، لیکن فوج نے امونیم نائٹریٹ وہاں سے ہٹانے سے انکار کر دیا تھا۔

بیروت پورٹ کے منیجر سمیت 16 گرفتار، ہلاکتیں 157 ہو گئیں

یوسف شہدی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایک سابق ساتھی نے انھیں بتایا کہ گودام نمبر 12 کے باہر ایک برقی آلے کے ساتھ ورکرز نے ایک دروازے کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی تھی، جس کے محض آدھے گھنٹے کے بعد دھماکا ہوا۔

دریں اثنا، حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ کل (اتوار) تک تیار ہونے کی توقع ہے تاہم پورٹ کے جنرل منیجر سمیت 16 افراد کو گرفتار کر کے انھیں ان کے گھروں میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔

دوسری طرف لوگوں کے اندر اس حادثے کے بعد غصہ بڑھتا جا رہا ہے، اور انھوں نے ایک بڑے احتجاج کی منصوبہ بندی کر لی ہے، لبنانی حکومت کو نا اہل قرار دیا جا رہا ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ موجودہ حکومت مستعفی ہو۔

واضح رہے کہ بیروت بندرگاہ پر دھماکوں سے ہلاکتوں کی تعداد 157 ہو چکی ہے، جب کہ 5 ہزار سے زائد زخمی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، صورت حال پر قابو پانے کے لیے فوج کو مکمل اختیارات دے دیے گئے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں