اتوار, جولائی 19, 2026
اشتہار

آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا تذکرہ

اشتہار

حیرت انگیز

بہادر شاہ ظفر کے پاس ہزاروں کی تعداد میں سپاہیوں کا لشکر تھا، نہ وہ تیر انداز کہ جن کا نشانہ خطا نہ جاتا۔ ان کی حفاظت کے لیے شمشیر زنی میں ماہر سپاہی تھے اور نہ ہی بارود بھری بندوقیں تان کر دشمن پر گولیاں برسانے والے تھے۔ ہوتے بھی کیوں جب کہ سلطنت کے نام پر دلّی کے گلی کوچے اور چند کوس ہی اس آخری مغل بادشاہ کے پاس رہ گئے تھے۔ کہاں کا راج پاٹ اور کیسی بادشاہت۔ سو، وہ اپنے پیچھے جو اثاثہ چھوڑ گئے، وہ ان کی شاعری ہی ہے۔

اس حرماں نصیب بادشاہ سے محبّت کرنے والے اور ان کے عقیدت مند بہرحال برصغیر کے طول و عرض میں بستے تھے، اور یہی وجہ تھی کہ بہادر شاہ ظفر کی آواز پر آزادی کی جنگ لڑنے کے لیے مسلمان ہی نہیں ہندو اور دوسرے مذاہب کے ماننے والے بھی باہر نکلے اور انگریز راج کے خلاف اپنی جانیں قربان کر دیں۔

1837ء میں اکبر شاہ ثانی کے بعد ابوالمظفر سراج الدّین محمد بہادر شاہ غازی نے مغلیہ سلطنت کا تاج اپنے سَر پر سجایا، لیکن اپنے مرحوم باپ کی طرح وہ بے اختیار، قلعے تک محدود اور انگریزوں کے وظیفہ خوار ہی رہے۔ عظیم مغل سلطنت دہلی و گرد و نواح میں‌ سمٹ چکی تھی، لیکن لوگوں کے لیے وہ شہنشاہِ ہند ہی تھے۔ بہادر شاہ ظفرؔ جانتے تھے کہ اب وہ ایک فرماں‌ روا نہیں رہے ہیں بلکہ ان کا گزر بسر بھی اسی وظیفے پر ہے جو انگریز نے باندھ رکھا ہے۔ان حالات میں وہ جاہ و جلال دکھانا اور عظمتِ رفتہ کے قصّے سننے سنانے سے بات نہیں بنے گی۔ مسند نشینی سے 1857ء کی جنگِ آزادی تک ان کا دور ایک نہ ختم ہونے والی شورش کی داستان سے پُر رہا۔ وہ ایسے شہنشاہ تھے جسے زر و جواہر سے معمور شاہی خزانہ ملا، نہ بیش قیمت ہیرے۔ پکھراج کے قبضے والی وہ تلواریں بھی نہیں‌ جنھیں خالص سونے کے بنے ہوئے نیام میں رکھا جاتا ہو، لیکن رعایا ان سے بے پناہ عقیدت رکھتی تھی اور لوگ ان کی تعظیم کرتے تھے۔ بہادر شاہ ظفرؔ کو ایک دین دار، نیک صفت اور بدنصیب بادشاہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

آخری مغل بادشاہ شیخ فخرالدّین چشتی کے مرید تھے۔ ان کے وصال کے بعد قطب الدّین چشتی سے بیعت کی۔ انگریزوں کے برصغیر سے جانے کے بعد بہادر شاہ کا عرس بھی ہندوستان میں ہر سال باقاعدگی سے منایا جانے لگا جب کہ اپنے مدفن یعنی ملک برما میں انھیں صوفی بابا ظفر شاہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

بہادر شاہ ظفرؔ 14 اکتوبر 1775ء اکبر شاہ ثانی کے گھر پیدا ہوئے۔ 1840ء میں زینت محل سے ان کی شادی ہوئی۔ بہادر شاہ ظفرؔ نے اپنے دادا شاہ عالم ثانی کو دیکھا اور ان سے بہت کچھ سیکھا۔ بہادر شاہ اردو، فارسی، عربی اور ہندی پر دست گاہ رکھتے تھے۔ وہ خوش نویس بھی تھے۔ گھڑ سواری، تیر اندازی، شمشیر زنی میں بھی ماہر تھے۔ انگریزوں نے 1857ء میں‌ غدر، یعنی جنگِ‌‌ آزادی کی ناکامی پر بہادر شاہ ظفر کو جلا وطن کر کے رنگون (برما) بھیج دیا تھا جہاں‌ عسرت و تنگی جھیلتے ہوئے 7 نومبر 1862ء کو وفات پائی۔ بہادر شاہ نے زندگی کے آخری چار سال اپنی بیوی زینت محل کے ساتھ رنگون میں شویڈاگون پاگوڈا کے جنوب میں ملٹری کنٹونمنٹ میں گزارے۔ ان کے معتقدین اور پیروکاروں کے اشتعال اور بغاوت کے خطرے کے پیشِ نظر انگریزوں نے انھیں اسی گھر کے ایک کونے میں دفن کر دیا اور ان کی قبر کو بے نام و نشان رہنے دیا۔ بعد میں وہاں مقبرہ بنایا گیا۔

بہادر شاہ ظفر کا یہ شعر آخری ایّام میں عالمِ حسرت و یاس اور ان کے صدمہ و کرب کا عکاس ہے۔

بھری ہے دل میں جو حسرت، کہوں تو کس سے کہوں
سنے ہے کون، مصیبت کہوں تو کس سے کہوں

بادشاہ نے میانمار کے شہر رنگون کے ایک خستہ حال چوبی مکان میں اپنے خاندان کے گنے چنے افراد کی موجودگی میں دَم توڑا تھا۔ اس المیے کو انہی کے شعر میں یوں دیکھیے۔

ہے کتنا بدنصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

ہندوستان کے آخری مغل بادشاہ کا سب سے بڑا ورثہ ان کی اردو شاعری ہے۔ ان کی غزلیں برصغیر میں مشہور ہیں۔ ان کا کلام نام ور گلوکاروں نے گایا اور ان کی شاعری پر تنقیدی مضامین بھی لکھے گئے۔ مولانا حالیؔ نے کہا ظفر کا تمام دیوان زبان کی صفائی اور روزمرّہ کی خوبی ہیں، اوّل تا آخر یکساں ہے۔‘‘ اسی طرح آبِ بقا کے مصنّف خواجہ عبد الرّؤف عشرت کا کہنا ہے کہ ’’اگر ظفر کے کلام پر اس اعتبار سے نظر ڈالا جائے کہ اس میں محاورہ کس طرح ادا ہوا ہے، روزمرہ کیسا ہے، اثر کتنا ہے اور زبان کس قدر مستند ہے تو ان کا مثل و نظیر آپ کو نہ ملے گا۔

ظفر بحیثیت شاعر اپنے زمانہ میں مشہور اور مقبول تھے۔ ‘‘ منشی کریم الدین ’’ ’’طبقاتِ شعرائے ہند‘‘ میں لکھتے ہیں۔ ’’شعر ایسا کہتے ہیں کہ ہمارے زمانہ میں ان کے برابر کوئی نہیں کہہ سکتا۔

بہادر شاہ ظفر کے ساتھ بطور شاعر بھی ناانصافی کا تذکرہ ہمیں‌ پڑھنے کو ملتا ہے۔ کہتے ہیں‌ کہ انھیں کلاسیکی شاعروں میں وہ مقام نہیں‌ دیا گیا جس کے وہ حق دار تھے۔ بعضوں‌ نے ان کے کلام کو استاد ذوق کی ‘کارستانی’ قرار دیا ہے۔ بہادر شاہ ظفر نے استاد ذوق سے بھی اصلاح لی تھی اور اسی لیے یہ بات مشہور ہوگئی کہ انھیں ذوق کلام لکھ کر دیتے تھے۔ تاہم ادبی محققین اور بڑے نقّادوں نے اسے غلط قرار دیا ہے اور ظفر کی شاعرانہ عظمت کو تسلیم کیا ہے۔ معروف ادبی محقّق منشی امیر احمد علوی کے مطابق بہادر شاہ ظفر نے پانچ دیوان چھوڑے جن میں ایک ہنگاموں کی نذر ہوگیا اور چار دیوان کو لکھنؤ سے منشی نول کشور نے شایع کیا۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں