یہ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے رنگون میں جلاوطنی اور ان کی رحلت کے روزنامچوں پر مشتمل تحریر ہے جو دراصل رنگون میں برطانوی حکومت کے قیدیوں کا نگراں اپنی حکومت کو ارسال کرتا تھا۔ اس میں بادشاہ کی بیماری اور وفات کے بعد ان کی تدفین تک کی تفصیل شامل ہے۔
یہ روزنامچے بتاتے ہیں کہ کس طرح برطانوی قید میں موت کے بعد انگریز افسر نے آخری تاجدارِ ہند کی قبر کو بے نام و نشان کیا اور تدفین کے بعد سطحِ زمین ہموار کر دی تھی۔ یہ پارے اسلم پرویز کی بہادر شاہ ظفر پر سوانحی اور تحقیقی کتاب سے لیے گئے ہیں۔
بہادر شاہ ظفر کی شخصیت انیسویں صدی کے ہندوستان کی سیاسی و ثقافتی اور ادبی زندگی کا ایک اہم باب ہے وہ اس مغل سلطنت کے آخری تاجدار تھے جس نے تین صدری تک ملک میں پورے شان و شکوہ کے ساتھ حکومت کی تھی عظیم مغلوں نے ہندوستانی زندگی میں اپنی ذات کو اور اپنی ذات میں ہندوستانی زندگی کو اس طرح جذب کیا تھا کہ سولھویں صدی سے لے کر انیسویں صدی تک کے ہندوستان کو بجا طور پر مغل ہندوستان کہا جا سکتا ہے۔ اس اعتبار سے بہادر شاہ ظفر کی شخصیت ایک ایسے جیالے کی جاں کنی کے لمحات کی تصویر ہے جس کی زندگی ایک شان دار ماضی کی امین تھی۔ اسلم پرویز نے اپنی کتاب میں لکھا ہے:
کیپٹن نیلسن ڈیوس نے چارج لیا
یکم اپریل 1859ء کو کیپٹن نیلسن ڈیوس نے لیفٹینٹ اومینی سے سیاسی قیدیوں کا چارچ لے لیا۔ اس کے بعد سے آخر تک قیدی انھی کے چارج میں رہے۔ گورنمنٹ آف انڈیا کو اپنی رپورٹ میں ڈیوس نے ایک جگہ لکھا ہے کہ شاہی قیدیوں کے رنگون پہنچنے پر رنگون میں مقیم ہندوستانی مغل تاجروں نے شروع شروع میں معمولی تشویش ظاہر کی تھی لیکن رفتہ رفتہ وہ تشویش ختم ہوگئی۔
سیاسی قیدیوں کی خوراک کا ذکر کرتے ہوئے ڈیوس لکھنا ہے کہ ان کی خوراک کا خرچ ہندوستان کے مقابلے میں یہاں زیادہ ہے۔ سولہ قیدیوں کی خوراک پر لگ بھگ گیارہ روپے یومیہ خرچ ہوتے ہیں۔ اور چوں کہ چیزوں کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اس لیے ہو سکتا ہے کہ یہ خرچ اور بڑھ جائے۔ جب سے ڈیوس نے قیدیوں کا چارج لیا تھا تب سے قیدیوں کو ٹوائلٹ وغیرہ کے لیے ہر اتوار کو ایک روپیا اور ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو دو روپے مزید ملتے تھے۔ قیدیوں کو قلم دوات اور کاغذ رکھنے کی سختی کے ساتھ ممانعت تھی۔ ڈیوس روزانہ قیدیوں کی خوراک کے بارے میں معلومات فراہم کرتا تھا اور ہر ممکن کوشش یہی ہوتی تھی کہ ہر قیدی کو بہتر کھانا ملے۔
قیدیوں کی صحت کا ذکر
یکم جولائی 1861ء کو ڈیوس نے جو خط گورنر جنرل کے نام تحریر کیا اس میں وہ لکھتا ہے کہ پچھلے چھے ماہ سے سیاسی قیدیوں کی صحت اچھی ہے، البتہ ابو ظفر کم زور ہوتے جا رہے ہیں۔ سول سرجن کی رائے ہے کہ ابوظفر کی زندگی اب غیر یقینی سی ہو چکی ہے۔ بادشاہ کی بیگم زینت محل خوب تنومند ہیں لیکن جواں بخت کی بیوی زمانی بیگم کو کبھی کبھی بخار کی شکایت ہو جاتی ہے۔ ویسے زمانی بیگم اور ان کی خرد سال بچی اب ٹھیک ہیں اور جلد ہی زمانی بیگم ایک اور بچے کی ماں بننے والی ہیں۔ جواں بخت اور شاہ عباس بھی مزے میں ہیں اور میرے گھر پابندی سے آتے رہتے ہیں۔ وہ دونوں بریگیڈیر فِس نوکِن سے انگریزی پڑھتے ہیں اور اس معاملے میں انھوں نے خاصی ترقی کر لی ہے۔ میری بیوی (مسز ڈیوس) کبھی کبھی زمانی بیگم کو اپنے ساتھ ہوا خوری کے لیے لے جاتی ہیں۔ زمانی بیگم اور زینت محل دونوں کبھی کبھی ایک آدھ گھنٹہ ہمارے بنگلے پر بھی گزارتی ہیں۔
معالج نے بہادر شاہ ظفر کی زندگی کے بارے میں غیر یقینی کا اظہار کیا
بہادر شاہ ظفر کب کے عمرِ طبیعی کو پہنچ چکے تھے۔ ضعیفُ العمری میں انہیں جن مصائب و آلام سے دوچار ہونا پڑا، وہ اچھے خاصے تدرست انسان کے لیے بھی جان لیوا ثابت ہو سکتے تھے۔ تخت و تاج چھین گیا۔ عزت و وقار ختم ہو گیا۔ جلا وطن کر کے ہزاروں میل دور پردیس میں ڈال دیے گئے، لیکن حوادث کے اس طوفان میں ان کی زندگی کی شمع کسی نہ کسی رنگ میں جلتی رہی، یہاں تک کہ سحر آپہنچی۔ رنگوں میں وہ اکثر بیمار رہا کرتے تھے اور ان کے خاص معالج نے بہت پہلے یہ پیش گوئی کر دی تھی کہ اب ان کی زندگی غیر یقینی ہے۔
اکتوبر 1862ء میں ان کی حالت زیادہ خراب ہو گئی۔ سیاسی قیدیوں کا نگران نیلسن ڈیوس معاملے کی نزاکت کو سمجھ گیا، لہٰذا اس نے اپنی کار گزاری کا روزنامچہ پابندی سے لکھنا شروع کر دیا۔ بہادر شاہ ظفر کی زندگی کے آخری چند روز کس طرح گزرے اور کیسے اس عبرت ناک زندگی سے بالآخر انھوں نے اپنا دامن چھڑایا، اس کا اندازہ ڈیوس کے روز نامچے
سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے:
رنگون، جمعرات 23 اکتوبر 1862ء
سیاسی قیدیوں کو دیکھا، سب ٹھیک تھا۔ ابو ظفر کم زور ہوتے جا رہے ہیں۔
رنگون، اتوار 26 اکتوبر 1862ء
ابوظفر کا خادم احمد بیگ کہتا ہے وہ کم زور ہیں اور انھیں کھانا کھانے میں بھی تکلیف محسوس ہوتی ہے۔
رنگون، پیر 28 اکتوبر 1862ء
سیاسی قیدیوں کو دیکھا۔ ابو ظفر بدستور کم زور ہوتے جا رہے ہیں۔ اور ان کی حالت غیر ہوتی جا رہی ہے۔
رنگون، بدھ 29 اکتوبر 1862ء
سیاسی قیدیوں کو دیکھا، ابو ظفر کی حالت اچھی نہیں۔
رنگون، ہفتہ یکم نومبر 1862ء
سیاسی قیدیوں کو دیکھا، ابو ظفر کی حالت تشویش ناک ہے۔
رنگون، پیر 3 نومبر 1862ء
ابو ظفر کے حلق پر فالج کا اثر ہے اس لیے کم مقدار میں بھی کھانا کھانا ان کے لیے مشکل ہے۔
رنگون، بدھ 5 نومبر 1862ء
سول سرجن کو امید نہیں کہ ابو ظفر اب زیادہ دن جییں گے۔
رنگون، جمعرات 6 نومبر 1862ء
ابو ظفر کے حلق پر فالج کا اثر ہے اور بظاہر وہ (ڈاکٹر کے) ہاتھوں سے نکلتے جا رہے ہیں۔ ان کی آخری آرام گاہ کے طور پر جو جگہ مقرر کی گئی ہے میں نے اس کے قریب اینٹیں اور گارا اکٹھا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
رنگون، جمعہ 7 نومبر 1862ء
ابو ظفر محمد بہادر شاہ آج صبح پانچ بجے انتقال کر گئے۔ چوں کہ تمام تیاریاں مکمل تھیں اس لیے آج ہی شام چار بجے مین گارڈ کے عقب میں اینٹوں کی قبر میں ان کی تدفین کر دی گئی اور قبر کی اوپری سطح مٹی ڈال کر سطحِ زمین کے ساتھ ہموار کر دی گئی ہے۔ تھوڑے فاصلے پر بانسوں کا احاطہ کھینچ دیا گیا ہے تاکہ جب تک بانس گل سڑ کر گریں زمین پر گھاس اگ چکی ہو اور کوئی علامت ایسی باقی نہ رہے جس سے آخری مغل شہنشاہ کی قبر کی نشان دہی کی جاسکے۔
جنازے کا صندوق اور سوتی چادر
مرحوم کی تجہیز و تکفین کے لیے ایک مُلّا کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔ جنازے کو ایک صندوق میں رکھ کر اوپر سے سرخ رنگ کی ایک سوتی چادر سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔ مسلمانوں کا ایک ہجوم بازار سے آکر احاطے کے قریب جمع ہو گیا تھا لیکن اس ہجوم کو ایک خاص فاصلے پر رکھا گیا اس طرح کہ ان میں سے کوئی بھی میت کو نہ چھو سکے۔ کوئی نا خوش گوار واقعہ پیش نہیں آیا…… بادشاہ کے دونوں بیٹے جواں بخت اور شاہ عباس اور بادشاہ کا خادم احمد بیگ جنازے کے ساتھ تھے۔ شاہی خاندان کے دیگر افراد (بچّوں اور عورتوں) کو جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں تھی۔
جیسا کہ ڈیوس کی ڈائری سے معلوم ہوا بہادر شاہ ظفر کا انتقال، 7 نومبر 1862ء بروز جمعہ فالج کے مرض میں صبح پانچ بجے ہوا اور اسی روز شام کو چار بجے ان کی تدفین عمل میں آگئی۔ ڈیوس نے بہادر شاہ ظفر کی وفات کی مفصل رپورٹ تیار کی اور ساتھ ہی بادشاہ کی وفات کے بارے میں سول سرجن کا سرٹیفکٹ بھی منسلک کیا۔ اس سرٹیفکٹ میں سول سرجن نے بادشاہ کی موت کی تصدیق اس طرح کی تھی:
رنگون، 7 نومبر 1862ء
تصدیق کیا کہ سابق بادشاہِ دہلی محمد بہادر شاہ پر فالج کا زبردست حملہ ہوا اور اس کے سبب وہ آج صبح پانچ بچے فوت ہو گئے۔
دستخط
جے ۔ ای ۔ ڈکٹسن
سول سرجن
سیاسی قیدیوں کا میڈیکل انچارج
چندے کی رقم سے مزار کی تعمیر
جیسا کہ ڈیوس کے خط سے پتا چلتا ہے کہ بہادر شاہ ظفر کی تدفین اس طرح کی گئی کہ ان کی قبر کا نشان بھی نہ ملے اور ایسا ہی ہوا بھی۔ ظفر کی وفات کے کچھ عرصے بعد کچھ مسلمان ہندوستان سے رنگون گئے اور انھوں نے بہادر شاہ ظفر کی قبر پر فاتحہ پڑھنی چاہی تو اس جگہ جہاں ظفر کو دفن کیا گیا تھا انھیں سوائے ایک چٹیل میدان کے اور کچھ نہ ملا۔ ان لوگوں نے بااثر حلقوں میں جاکر اس بات کی کوشش کی کہ بہادر شاہ ظفر کے مزار کی باقاعدہ تعمیر ہو جائے۔ اسی سلسلے میں بہادر شاہ درگاہ ٹرسٹ کا قیام عمل میں آیا۔ اس ٹرسٹ نے عوام کے نام ایک اشتہار جاری کیا جس میں اپیل کی گئی تھی کہ وہ بہادرشاہ ظفر کے مزار کی تعمیر کے لیے چندہ دیں۔ ٹرسٹ نے ایک معقول رقم جمع کرلی اور اس سرمایے سے ظفر کا مزار تعمیر کرایا گیا۔


