The news is by your side.

Advertisement

بہادرآباد جانے پرغورصرف ثالثی کمیٹی کے فارمولے پرہوگا، ٕفاروق ستار

کراچی : ایم کیو ایم کے سابق کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کا ثبوت اور شواہد کو دیکھے بغیر کیس کا فیصلہ دینا سمجھ سے بالاتر ہے، بہادر آباد جانے پرغور صرف ثالثی کمیٹی کے فارمولے پر ہی ہوسکتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا،  ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ دو تہائی اکثریت والے فیصلےمیں 4اراکین کے دستخط مشکوک ہیں۔

حیدرعباس رضوی، سینیٹر میاں عتیق، بیرسٹرسیف، اظہار خان اجلاس میں شریک ہی نہیں تھے تو ان کےدستخط کہاں سے آئے؟ الیکشن کمیشن نے ثبوت و شواہد کو دیکھا ہی نہیں، اس کیس کا ٹرائل عدالت میں ہونا تھا, فاروق ستار کا مزید کہنا تھا کہ دستخط کرکے کوریئر سروس سے بھیجے گئے تھے تو ان کی رسیدوں کی جانچ پڑتال ہونی چاہئے۔

متحدہ قومی موومنٹ بہادرآباد کی جانب سے برطرف کنوینر فاروق ستار کو پارٹی سربراہی کی پیش کش کے حوالے سے سوال پر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ بہادرآباد جانے پرغور صرف ثالثی کمیٹی کے فارمولے پر ہوسکتا ہے،

علاوہ ازیں ایم کیو ایم  پی آئی بی اور بہادرآباد میں کیا فارمولہ طے تھا؟ اے آر وائی نیوز نے اس کا بھی  پتہ لگالیا، اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ فارمولے میں یہ طےپایا گیا ہے کہ دونوں طرف سے رابطہ کمیٹی تحلیل کی جائے.

دس، دس رکنی ایڈہاک رابطہ کمیٹی خالد مقبول اور فاروق ستار بنائیں، رابطہ کمیٹی دونوں مل کر چلائیں اور پھرانٹرا پارٹی الیکشن کرائے جائیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔  

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں