site
stats
اہم ترین

سانحہ بہاولپور: جاں بحق افراد کی تعداد 157 ہوگئی، 125 افراد سپرد خاک

بہاولپور : آئل ٹینکر سانحہ کے مزید دوزخمی چلے بسے، جاں بحق افراد کی تعداد 157 ہوگئی، 125 افراد کو اجتماعی نمازہ جنازہ کے بعد سپرد خاک کردیا گیا۔

احمد پور شرقیہ سے اے آر وائی نیوز کے نمائندے چوہدری سلیم نے بتایا کہ انتظامیہ نے پہلے ایک بجے نماز جنازہ پڑھانے کا اعلان کیا تھا تاہم بعد میں یہ وقت 5 بجے کردیا گیا، اس کے بھی بعد میں یہ نماز ادا کی گئی بعدازاں جاں بحق افراد کو نذیر شاہ قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔

رپورٹر کے مطابق یہ لاشیں ناقابل شناخت ہیں جو کہ 12 ٹرکوں پر لائی گئیں، ایم این اے، ایم پی ای دیگر سیاست دان، ڈسٹرکٹ اور ضلعی انتظامیہ، تمام مکاتب فکر کے افراد اور غیر مسلم افراد کی اظہار یک جہتی کے لیے یہاں پہنچے۔

لوگوں کی بہت بڑی تعداد نے نماز جنازہ ادا کی ، ہزاروں افراد نماز جنازہ میں شریک تھے سیکڑوں افراد نماز پڑھنے سے بھی رہ گئے، اس وقت شدید بدنظمی دیکھنے میں آئی تاہم لوگوں نے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

اب سانحہ احمد پور شرقیہ میں مرنے والے 125 افراد کی اجتماعی تدفین کا عمل قریبی قبرستان میں جاری ہے۔

دوسری جانب سانحے کے مزید دو زخمی چل بسے جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 157 ہوگئی۔

ڈرائیور کا پتا چل گیا، اسپتال میں زیر علاج

اطلاعات ہیں کہ ٹینکر تیز رفتاری کے باعث الٹا تھا جس پر سانحے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ایف آئی آر میں ٹینکر مالک، منیجر اور ڈرائیور کو نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ڈرائیور کا پتا چل گیا ہے، وہ زخمی ہے اور اسپتال میں زیرعلاج ہے۔

لوگوں کو آئل جمع کرنے سے روکا، کسی نے نہ سنی، ڈرائیور

اطلاعات کے مطابق ڈرائیور کا بیان ہے کہ اس نے ٹینکر گرنے کے بعد وہاں موجود لوگوں کو آئل جمع کرنے سے روک لیکن اس کی کسی نے نہ سنی۔


مزید پڑھیں : بہاولپور: آئل ٹینکر میں آگ لگنے سے 140 افراد جاں بحق


واضح رہے کہ 29 رمضان کو ٹینکر میں آگ لگنے سے 140 افرادجاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے تھے، واقعہ قومی شاہراہ پر پُل پکی کے قریب اس وقت پیش آیا جب آئل ٹینکر سے تیل لیک ہوا اور لوگوں کی بڑی تعداد تیل جمع کرنے کے لیے وہاں پہنچی تو آئل ٹینکر اچانک دھماکے سے پھٹ گیا۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top