The news is by your side.

Advertisement

پاکستان کو قرض کی حتمی منظوری : آئی ایم ایف 3 جولائی کوفیصلہ کرے گا

واشنگٹن : آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس تین جولائی کو ہوگا، اجلاس میں پاکستان کیلئے نئےقرضہ پروگرام کی حتمی منظوری دی جائےگی، منظوری کےبعدپاکستان کوآئی ایم ایف سےچھ ارب ڈالرکاقرضہ ملنےکاامکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کےدرمیان اصولی معاہدہ ہوگیا، تاہم قرض پروگرام کی حتمی منظوری ایگزیکٹو بورڈ دےگا، جس کے لئے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ کا اجلاس تین جولائی کو ہوگا۔

منظوری کے بعد پاکستان کو آئی ایم ایف سے چھ ارب ڈالر کا قرضہ ملنے کا امکان ہے، آئی ایم ایف کا بورڈ پاکستان کو ایکسینڈیڈ فنڈ فیسیلیٹی کے تحت قرضہ فراہم کرےگا۔

معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان نےآئی ایم ایف کی تمام شرائط پوری کردی ہیں، اگلے مالی سال کے بجٹ میں حکومت نے آئی ایم ایف کے تین سوستاون ارب روپے بجٹ میں شامل کر رکھے ہیں۔

امریکہ میں پاکستان کے سفیراسد مجیدخان کاکہناہےکہ امریکہ نے آئی ایم ایف پروگرام سےمتعلق کوئی شرط عائد نہیں کی ہے۔آئی ایم ایف معمول کی کارروائی کے بعد پاکستان کوقرضہ فراہم کرئےگا۔

یاد رہے کہ پاکستان اورآئی ایم ایف کےدرمیان  کچھ عرصہ قبل معاہدہ طے پاگیا تھا ،تین سال میں چھ ارب ڈالرملیں گے، پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف ٹیم کے درمیان معاہدے پرعملدرآمد آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ کی توثیق کے بعد کیا جائےگا۔

مزید پڑھیں : آئی ایم ایف سے معاہدہ طے، پاکستان کو 6 ارب ڈالر قرض ملے گا، مشیر خزانہ کی تصدیق

آئی ایم ایف اعلامیہ میں کہا گیا تھا پاکستان کو 6 ارب ڈالر 39 ماہ میں قسطوں میں جاری کیے جائیں گے ، پاکستان آئندہ بجٹ کے خسارے میں 0.6 فیصد کمی لائےگا، مالیاتی نظام میں بہتری کیلئے صوبوں کے ساتھ مل کر قومی مالیاتی کمیشن اجلاس میں محاصل کی تقسیم نو پر غور کیا جائےگا۔

آئی ایم ایف کے مطابق روپے کی قیمت کاتعین فری مارکیٹ مکینزم سےہوگا۔ اسٹیٹ بینک فیصلےکرنےمیں مکمل خودمختارہوگا، حکومت کا آئندہ بجٹ معاشی اصلاحات کی جانب پہلاقدم ہوگا جبکہ پاکستان کو ٹیررفنانسنگ اورمنی لانڈرنگ کیخلاف اقدامات جاری رکھےجائیں گے۔

مشیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ نے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا آئی ایم ایف کے پاس جانے میں فوائدہیں،مشکلات کم کرنےکیلئےورلڈ بینک اوراےڈی بی سےکم شرح سودپر قرض ملیں گے، مہنگی بجلی کا تین سو یونٹ تک کے صارفین پر بوجھ نہیں پڑے گا جبکہ امیروں کی سبسڈی روکنا، امیروں سے زیادہ ٹیکس لیناملکی مفادمیں ہوگا،کم آمدنی والے طبقے کو خصوصی ریلیف دیا جائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں