The news is by your side.

Advertisement

11 مئی: آخری مغل تاجدار کے روبرو رعایا کی آخری فریاد

1857ء کا خونیں موسم تھا۔ پورے ملک (ہندوستان) میں جنگِ آزادی کا بگل بج چکا تھا۔ ہندوستان کے تمام باشندے، بلا تفریقِ مذہب و ملّت انگریز اقتدار کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ پورا ہندوستان انتقام کی آگ میں جل رہا تھا۔

راجدھانی دہلی، حرّیت پسندوں کا مرکز بنی ہوئی تھی اور آخری مغل تاج دار بہادر شاہ ظفر کی قیادت میں تمام ہندوستانی آزاد ہونے کے لیے بے قرار تھے، تب جنرل بخت خان، بوڑھے مغل بادشاہ کی جانب سے فوج کی قیادت سنبھالے ہوئے تھے اور انگریزوں سے لوہا لینے میں مصروف تھے۔

بخت خان روہیلہ 1857ء کی جنگِ آزادی کا ایک ایسا کردار ہے جسے نظر انداز کرکے جنگِ آزادی کی داستان مکمل نہیں ہو سکتی۔ وہ بہادر شاہ ظفر کے زمانے میں انگریزی فوج میں صوبہ دار تھے، مگر بعد میں اس سے الگ ہو گئے اور آزادی کے متوالوں کی صف میں شامل ہو گئے۔

انگریزوں کے خلاف جنگِ آزادی میں کود پڑے اور اپنے فوجی دستے سمیت وہ کار ہائے نمایاں انجام دیے جو آبِ زر سے لکھنے کے لائق ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ وقت نے وفا نہ کی اور ہندوستان کا یہ عظیم سپوت ملک کو غیرملکی اقتدار سے آزاد کرانے میں کام یاب نہ ہو سکا۔ پہلی جنگِ آزادی کو انگریزوں کی ریشہ دوانیوں اور شاطرانہ چالوں نے ناکام بنا دیا۔

کون تھے جنرل بخت خان؟
جنرل بخت خان روہیلہ ایک افغان خاندان سے تھے جو کئی پشتوں سے روہیل کھنڈ میں قیام پذیر تھا۔ اس خاندان کی جواں مردی اور جاں نثاری کی ایک طویل تاریخ تھی۔ بخت خان، 1793ء میں بجنور (روہیل کھنڈ) میں پیدا ہوئے۔ جوان ہوئے تو انگریزی فوج میں ملازم ہو گئے، کیوں کہ وہ نڈر اور بہادر تھے۔

بخت خان نے کمپنی کی فوج میں ایک پیادہ دستے کے کمانڈر کے طور پر اپنی خدمات انجام دیں، مگر 1856ء میں انھیں برطانوی حکومت نے فوج سے معزول کر دیا۔ اس کے بعد جب پہلی جنگِ آزادی کا آغاز ہوا تو وہ انگریز مخالف فوج کے سپہ سالار بن گئے۔ بخت خان نے ہی بہادر شاہ ظفر کو فرنگیوں کے خلاف فوج بنانے کا مشورہ دیا تھا، جسے ابتدا میں بادشاہ نے مسترد کر دیا تھا۔ اس کے باوجود انگریزوں کے خلاف بخت خان نے علَمِ بغاوت بلند کیا اور اپنی الگ فوج منظّم کر لی اور ایک مدّت تک انگریزوں سے لوہا لیتے رہے۔ بعد کے دور میں یہی فوج بادشاہ کی مدد کے لیے دہلی آئی تھی اور اس تاریخی شہر کا نظم سنبھالا تھا۔

بوڑھے بادشاہ کا جاں باز کمانڈر
10 مئی، 1857ء کو میرٹھ میں جو ایک انقلاب کی آگ لگی تھی چار دن بعد ہی اس کی چنگاری بریلی پہنچ گئی تھی۔ یہاں کئی انگریز افسروں کو قتل کیا گیا اور انقلابیوں نے بریلی کو آزاد کرا لیا۔ خان بہادر خان کو یہاں کا نواب اعلان کیا گیا اور بخت خان نے کی فوج کی ذمہ داری قبول کی۔

بریلی جیل سے تمام قیدیوں کو آزاد کر کے خزانے پر بھی قابو پا لیا گیا تھا۔ 10 مئی 1857ء کو میرٹھ چھاؤنی میں ہوئی فوجی بغاوت کے بعد باغی فوجی دہلی کے لال قلعہ آئے اور 11 مئی کی صبح کو یہاں انگریزوں کی پنشن پر گزارہ کر رہے بادشاہ کے آگے فریاد کی کہ وہ ملک و ملّت اور مذہب کو ظالم انگریزوں سے بچانے کے لیے آگے آئیں۔ سپاہیوں نے کہا آپ ہمارے سر پر ہاتھ رکھیں اور انصاف کریں۔ ہم آپ کو ہندوستان کا شہنشاہ بنانا چاہتے ہیں۔ بادشاہ نے جواب دیا کہ میرے پاس خزانہ نہیں ہے کہ تمہیں تنخواہ دے سکوں، نہ فوج ہے کہ تمہاری مدد کر سکوں، سلطنت بھی نہیں کہ تم لوگوں کو عمل داری میں رکھ سکوں۔ جواب میں سپاہیوں نے کہا ہمیں یہ سب کچھ نہیں چاہیے۔ ہم تو اپنی جان قربان کرنے آئے ہیں۔ آپ صرف ہمارے سر پر ہاتھ رکھ دیجیے۔

اس کے بعد بہادر شاہ ظفر ہندوستان کے بادشاہ اور ہندوستان کی پہلی جنگِ آزادی کے راہ نما بن گئے۔21 بندوقوں کی سلامی دی گئی۔ اسی دوران بخت خان نے روہیلہ سپاہیوں کی ایک فوج بنائی۔ بخت خان کی فوج، میں بیش تر سپاہیوں کے پاس گھوڑے اور ہتھیار نہیں تھے مگر آزادی کا جذبہ تھا، لہٰذا انگریزوں کے خلاف لڑنے میں یہ لوگ پیش پیش تھے۔ انگریزوں کے خلاف میرٹھ میں سپاہیوں کی بغاوت کے بعد وہ دہلی میں فوج کے کمانڈر بن گئے۔

جنرل بخت خان کی دہلی میں ذمہ داریاں
جب دہلی میں مشکل حالات تھے اور ہر جانب افراتفری تھی، تب 1 جولائی 1857 کو، بخت خان دہلی کے قریب پہنچ گئے۔ بادشاہ کے خسر اور ملکہ زینت محل کے والد ناب علی خان نے بخت خان کا خیر مقدم کیا تھا۔ اس فوج کو شاہ جہان آباد میں نہیں رکھا جا سکتا تھا کیوں کہ یہ بڑی فوج تھی، لہذا دہلی گیٹ سے باہر رکھنے کا حکم دیا گیا تھا۔

مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے بخت خان اور ان کے سپاہیوں کا دہلی پہنچنے پر شکریہ ادا کیا۔ بخت خان کو ’’صاحبِ عالم‘‘ کے خطاب سے نوازا، اس کے بعد اپنے بیٹے کی جگہ پر بادشاہ نے بخت خان کو اپنا کمانڈر بنایا اور سب سے بڑا دفتر دیا۔

بادشاہ کے بیٹے میرزا مغل کو بخت خان کے نیچے جگہ ملی اور بخت خان کو گورنر جنرل کا لقب بھی دیا گیا۔ دہلی پہنچنے کے ایک ہفتے کے اندر، بخت خان نے انقلابی تبدیلی کی۔ انہوں نے شاہی عملے کو تنخواہ ادا کرنے کا حکم دیا، اور وہ لوگ جنہوں دہلی میں لوٹ پاٹ کی تھی انھیں گرفتار کیا گیا اور انہیں سزائیں دی جانے لگیں۔ جو فوجی شہر کے اندر تھے، انھیں کوچہ و بازار سے نکال دیا گیا تھا اور دہلی گیٹ کے باہر جانے کا حکم دیا گیا۔

19 جولائی، 1857ء کو بخت خان نے انگریز فوجیوں کی چوکی پر قبضہ کرنے کی کوشش کی اور کام یاب رہے۔ چوں کہ ان کی فوج بھی وہی کپڑے پہنتی تھی جو برطانوی فوج کے فوجی پہنتے تھے، اس لیے ان کا برطانوی کیمپ میں پہنچنا آسان تھا۔ حالاں کہ اس بیچ بہادر شاہ ظفر کا سمدھی مرزا الٰہی بخش انگریزوں کے ساتھ مل کر بہادر شاہ کے خلاف سازش کر رہا تھا۔ اس بات کا پتہ بخت خان کو چل گیا تھا اور انہوں نے بہادر شاہ کو بتا بھی دیا مگر الٰہی بخش نے جھوٹ بول کر بادشاہ کے سامنے بخت خان کو جھوٹا ثابت کر دیا۔ تب بہادر شاہ نے انہیں وہاں سے چلے جانے کو کہہ دیا۔

واضح ہو کہ بخت خان کے دہلی چھوڑنے کے بعد بادشاہ کی بھی گرفتاری ہو گئی تھی اور انھیں رنگون جلا وطن کر دیا گیا تھا۔ یہیں بادشاہ کی موت ہوئی اور آج بھی یہیں قبر موجود ہے۔

بخت خان کی نیپال کی طرف روانگی
بہادر شاہ ظفر نے جنرل بخت خان کو بہادری اور عوامی مقبولیت کی وجہ سے اپنی مملکت میں سپہ سالار یعنی جنرل کا عہدہ عطا کیا تھا۔ وہ اس عہدے کے بجا طور پر مستحق بھی تھے۔ ویسے حالات کچھ اچھے نہیں تھے۔ لال قلعے کے اندر اور بادشاہ کے اہلِ خانہ تک میں انگریزوں کے جاسوس گھسے ہوئے تھے۔ بوڑھے بادشاہ کی سرد مہری اور شہزادوں کے عدم تعاون کی وجہ سے بخت خان کچھ خاص کرنے سے قاصر تھے۔

جب حالات زیادہ بگڑ گئے اور دلّی پر انگریزوں کے دوبارہ قبضے کا یقین کامل ہوا تو بخت خان نے نہایت مایوسی کے عالم میں دلّی کو چھوڑ دیا اور اپنے کچھ جاں نثار ساتھیوں کے ساتھ نیپال کے پہاڑوں میں چلے گئے۔

نیپال کا راستہ دشوار گزار پہاڑیوں اور ندی نالوں سے بھرا پڑا تھا۔ ظاہر ہے کہ دیسی سپاہییوں کے لیے جان بچانے اور فرنگی دشمن سے بچنے کی خاطر نیپال کے گھنے جنگلوں سے زیادہ محفوظ جگہ شاید ہی کوئی اور ہوتی۔ جنرل بخت خان ان جنگلوں میں کہاں روپوش ہوئے یہ کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔ بخت خان کے پیچھے میرٹھ اور کانپور کچھ دوسرے علاقوں سے آنے والی دیسی سپاہیوں کی ٹکڑیاں بھی بڑی تعداد میں ان ہی جنگلوں میں جا چھپی تھیں۔

ایک روایت یہ ہے کہ 13 مئی، 1859ء میں زخمی ہو کر ترائی کے جنگلات میں بخت خان شہید ہوئے۔ دوسری روایت یہ ہے کہ وہ بعد کے دور میں سوات کے علاقے میں چلے گئے تھے جو پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر واقع ہے۔ اسی علاقے سے ان کا خاندان کسی زمانے میں آیا تھا اور آخری وقت میں ان کی مٹی یہیں کھینچ لائی تھی۔

دعویٰ کیا جاتا ہے کہ خیبر پختونخوا کے سوات علاقے میں انھیں دفن کیا گیا تھا اور آج بھی ان کی قبر یہیں بونیر ضلع میں ہے۔

غوث سیوانی (نئی دہلی) کے مضمون سے انتخاب

Comments

یہ بھی پڑھیں