The news is by your side.

Advertisement

بلدیہ فیکٹری کیس: ’حماد صدیقی کو 264 مرتبہ سزائے موت دلوائیں گے‘

کراچی: انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس کا مختصر تحریری فیصلہ جاری کردیا جس میں ملزم حماد صدیقی  اور حسن قادری کے خلاف مقدمہ داخل دفتر کرنے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ سندھ پولیس کے افسر نے اشتہاری ملزم حماد صدیقی کو سزائے موت دلوانے کا عندیہ دےد یا۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق  انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے جاری ہونے والے تحریری فیصلے میں درج کیا گیا ہے بلدیہ فیکٹری کے مرکزی ملزمان حماد صدیقی اور حسن قادری کے خلاف مقدمہ داخل دفتر کیا جائے اور دونوں ملزمان کے تاحیات وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائے۔

عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ ملزمان کی گرفتار کے بعد اُن کے خلاف مقدمہ دوبارہ بحال کردیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: ‘افسوس ہوا منصوبہ ساز اور معاونین گرفت سےبچ گئے’

دوسری جانب ایس ایس پی ساجد سدوزئی نے کہا ہے کہ ’رحمان بھولا، زبیر چریا کی طرح حماد صدیقی کو بھی 264 مرتبہ سزائے موت دلوائیں گے کیونکہ وہ مرکزی ملزم ہے اور اُس کے وارنٹ بھی جاری ہوچکے ہیں‘۔

ساجد امیر سدوزئی کا کہنا تھا کہ ’ہمیں امید ہے کہ حماد صدیقی بھی جلد گرفتار ہوجائے گا‘۔

مختصر حکمہ نامہ

انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے جاری ہونے والے مختصر حکم نامے میں درج کیا گیا ہے کہ عبدالرحمان بھول اور زبیر چریا کو 264 بار سزائے موت اور 2 لاکھ روپے فی کس جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بلدیہ فیکٹری کیس فیصلہ، سعید غنی اور فیصل سبزواری آمنے سامنے

اسے بھی پڑھیں: 8 سال بعد سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کا فیصلہ ، رحمان بھولا اور زبیرچریا کو سزائے موت سنادی گئی

عدالتی حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ دفعہ 302 کے تحت 264افراد کےقتل میں رحمان بھولا اور زبیر چریا کو سزائے موت دی گئی جبکہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7بی کے تحت دونوں کو عمر قید اور دو لاکھ روپے فی کس جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے، جرمانے کی عدم ادائیگی پر ملزمان کو 6 ماہ قید مزید کاٹنی ہوگی۔

حکم نامے میں لکھا گیا ہے کہ اقدام قتل کی دفعہ میں 60 افرادکو زخمی کرنے پر 600سال قید اور ایک لاکھ جرمانہ جبکہ 60افرادکو زخمی کرنے کے جرم میں 60 بار عمر قید کی سزا اور  2لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں