نئی جے آئی ٹی نے کراچی کے سانحہ بلدیہ کودہشت گردی قرار دے دیا -
The news is by your side.

Advertisement

نئی جے آئی ٹی نے کراچی کے سانحہ بلدیہ کودہشت گردی قرار دے دیا

کراچی: نئی جے آئی ٹی نے کراچی کے سانحہ بلدیہ کودہشت گردی قرار دے دیا، حماد صدیقی سمیت آٹھ ملزمان کونامزدکرنے کی سفارش کردی۔

سانحہ بلدیہ کیس میں جے آئی ٹی رپورٹ پیش کردی گئی، نئی ایف آر دہشت گردی اور قتل کی دفعات کے تحت درج کرنے کی سفارش، حماد صدیقی، رحمان بھولا، محمد زبیر اور دیگرکےخلاف کارروائی کاکہہ دیا، سانحہ بلدیہ کیس کی سماعت میں تفتیشی افسر نے از سر نو بننے والی جے آئی ٹی کی رپورٹ پیش کی۔

جے آئی ٹی نے پہلے سے درج مقدمے کی واپسی اور رحمان بھولا، عمرحسین، سمیت دیگر ملزمان کو نامزد کرنے کی سفارش کی، جے آئی ٹی کے مطابق رحمان بھولا اورنگی ٹاؤن سیکٹرکاجوائنٹ انچارج تھا، حماد صدیقی نے رحمان بھولاکے ذریعے بھتہ مانگاتھا، فیکٹری مالکان نے ایم کیوایم رہنماؤں سے نائن زیرو جاکرملاقات کی، ملاقات کے باوجود بھتے کی رقم میں کوئی کمی نہیں کی گئی۔

جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق ملزمان عبد الرحمان عرف بھولا نےمالکان سےپچیس کروڑ روپے بھتہ اورفیکٹری منافع میں حصہ طلب کیاتھا۔

فیکٹری مالکان ایک کروڑ روپے دینے پرراضی تھے،فیکٹری مالکان کو بھتہ نہ دینے پرسبق سیکھانے کا فیصلہ کیا گیا، فیکٹری کےکارندے زبیرچیریا اوردیگرچارافراد نے کمیکل پھنک کر آگ لگائی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ سینئر رہنماوں کےدباؤ پر واقعہ شارٹ سرکٹ قراردے دیا، فیکٹر ی مالکان نے ہاتھ پاوں مارے تو محمد علی حسن قادری سے ملاقات کروائی گئی، حسن نے فی جاں بحق کےلئے ڈھائی اور زخمی کےلئے ایک لاکھ روپےطلب کیے، رقم انیس قائم خانی کے منہ بولے بیٹے عبدالستار تک پہنچی، انیس قائم خانی کا نام نامزد ملزمان میں نہیں ہے۔

تفتیشی افسر نےعدالت کوبتایاکہ جے آئی ٹی رپورٹ اعلیٰ افسران کوارسال کردی گئی ہے، عدالت نے استفسارکیاکہ ملزم منصور کہاں ہے ایک ماہ میں کیوں گرفتار نہ کیاجاسکا،یہ کوئی عام مقدمہ نہیں جو آپ کہہ دیں تعمیل نہیں ہوئی، عدالت نے آئی جی ویسٹ کوتفتیشی افسر کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کاحکم بھی دیا۔

میڈیا سے گفتگومیں وکیل کاکہناتھاکہ تین سال سے زائد وقت گزرنے کے باوجودکیس جے آئی ٹیز کی بنیادپرچل رہاہے اور متاثرہ خاندانوں کوتاحال انصاف نہیں ملا، عدالت نے مالکان کوحاضری سے استثنیٰ دینےکی درخواست منظورکرلی، سانحہ بلدیہ کیس کی آئندہ سماعت بائیس مارچ کوہوگی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں