The news is by your side.

Advertisement

سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس، ’یہ ایم کیو ایم کا نہیں چند کارکنان کا انفرادی عمل تھا‘

کراچی: انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے 8 سال بعد سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کا فیصلہ آنے پر سیاسی جماعتوں کا ردعملِ بھی سامنے آگیا۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس پر تحریک انصاف، ایم کیو ایم پاکستان اور تنظیم بحالی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹرفاروق ستار نے ردعمل دیا۔

تحریک انصاف کراچی کے رہنما اور رکن صوبائی اسمبلی خرم شیر زمان کا کہنا تھا کہ ’سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کا فیصلہ دیر سے ضرور مگر صحیح آیا، جن کو سزائیں ہوئیں اُنہوں نے ہی فیکٹری میں آگ لگائی تھی، یہ وہ لوگ ہیں جن کو حکم ملا مگر واقعے کے اصل ذمہ دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے فیکٹری کو نذر آتش کرنے کا حکم دیا‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’جن لوگوں نےآگ لگانےکاحکم دیا اُن کوبھی منظرعام پرلاکرسزادی جائے، آج کراچی کی روشنیاں بحال ہوچکی ہیں، پی  ٹی آئی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہر میں امن و امان قائم کیا‘۔

مزید پڑھیں: بلدیہ فیکٹری کیس: ’حماد صدیقی کو 264 مرتبہ سزائے موت دلوائیں گے‘

ایم کیو ایم پاکستان کے ترجمان  نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رؤف صدیقی کا بری ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس واقعے سے ایم کیو ایم کا کوئی تعلق نہیں تھا۔

ترجمان ایم کیو ایم نے کہا کہ ’بلدیہ فیکٹری کے لواحقین سے ہمدردی ہے کیونکہ انہوں نے 8 برس تک فیصلے کا انتظار کیا، امید ہے اعلیٰ عدالتیں لواحقین کو جلد مکمل انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں گی‘۔

ایم کیو ایم پاکستان کے ترجمان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ’سماج دشمن اور قانون شکن عناصر کی سرپرستی کی پالیسی نہ پہلے تھی اور نہ آئندہ کبھی ہوگی‘۔

ایم کیو ایم تنظیم بحالی کمیٹی کے سربراہ اور سابق کنونیئر ڈاکٹر فاروق ستار نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’کیس میں انصاف کے تقاضے پورے کر کے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا، لواحقین کو انصاف ملا اس لیے انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا‘۔

یہ بھی پڑھیں: بلدیہ فیکٹری کیس فیصلہ، سعید غنی اور فیصل سبزواری آمنے سامنے

فاروق ستار نے مطالبہ کیا کہ ’وفاقی اور صوبائی حکومت کی جانب سے لواحقین کے لیے کیے جانے والے معاوضےکے وعدے پورے کے جائیں‘۔ تنظیم بحالی کمیٹی کے سربراہ نے مزید کہا کہ ’میں ایم کیو ایم پاکستان کا حصہ نہیں ہوں مگر پھر بھی مخالفین سے درخواست کرتا ہوں کہ اس سانحے کو ایم کیو ایم سے جوڑنے کے سلسلے کو بند کیا جائے کیونکہ عدالتی فیصلے سے ثابت ہوا کہ یہ ایم کیو ایم کے چند کارکنان کا انفرادی عمل تھا‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں