بدھ, جولائی 15, 2026
اشتہار

نہ بھلانے والا وہ دن جب میں نے بلدیہ فیکٹری جے آئی ٹی کی خبر بریک کی

اشتہار

حیرت انگیز

رپورٹرز کی زندگی میں بہت سے دن ایسے ہوتے ہیں جو اسے بھلائے نہیں بھولتے، میں سانحہ بلدیہ کا وہ دن کبھی نہیں بھول سکتا، جب وہ شروع ہوا تو میں کیمرہ مین زین صدیقی اور نعمان شیخ کے ساتھ مسلسل 48 گھنٹے تک اس اندوہ ناک سانحے کی کوریج کرتا رہا تھا۔

نہ وہ سوختہ لاشیں بھول سکتا ہوں، نہ وہ آگ کی تپش جو دور کھڑے ہو کر بھی مجھے محسوس ہو رہی تھی، نہ ان کے جنازے اور نہ ان جنازوں اور تدفین پر ایم کیو ایم کے جھنڈے لیے کارکن جو اُس دن شہر بھر کی آنکھوں میں بے پناہ کھٹک رہے تھے۔ یہ اُسی دن کی روداد ہے جس دن میں نے جوائنٹ انوسٹگیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کی خبر اپنے چینل پر بریک کی تھی۔


یہ روداد ایک ایسی صبح کی ہے جب میں اپنے ادارے اے آر وائی نیوز جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا، اور بہ طور کورٹ رپورٹر میرا ارادہ تھا کہ پہلے سندھ ہائی کورٹ جاؤں گا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب واٹس ایپ کا رواج نہیں تھا، ایسے میں میرے فون پر بیل بجی اور آگے سے اُس ’’شخص‘‘ نے، جو آج بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے کام کرتا ہے اور وہاں عدالتوں سے خبریں اپنے ادارے میں پہنچاتا ہے، مجھ سے کہا کہ ’’اُس کے ’بڑے صاحب‘ کی جانب سے آپ کو کچھ بتانا ہے، اور وہ چیز جلد جمع کرائی جائے گی۔‘‘


جب میں سندھ ہائی کورٹ انیکسی کے قریب اُن سے ملا تو اُن صاحب نے میرے سامنے ’’کچھ ایسے انکشافات‘‘ کیے جو میڈیا میں زبردست ہل چل مچا سکتے تھے۔ لیکن وہ یہ پیپر مجھے دینے کو تیار نہیں تھا۔ دراصل یہ ایک ملزم کے بارے میں جی آئی ٹی کی رپورٹ تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ 13 ڈی نا جائز اسلحہ کے کیس میں گرفتار ہونے والے شخص نے انکشاف کیا ہے کہ علی انٹر پرائزز کو بھتہ نہ دینے پر آگ لگائی گئی۔

اس کہانی میں حماد صدیقی ہی نہیں بلکہ کینیڈا کے ڈاکٹر صاحب کا بھی تذکرہ تھا اور مجھے بتایا گیا کہ آج اب سے کچھ دیر بعد یہ عدالت میں جمع کرا دی جائے گی۔ میں نے ان سے یہ پوچھا کہ آپ کی یہ مہربانی صرف مجھ ہی پر کیوں؟ تو اِس پر اُن کا یہ کہنا تھا کہ ’’ہمارے صاحب اے آر وائی نیوز شوق سے دیکھتے ہیں، خبر تو چلے گی جب کورٹ میں آئے گی تو کیوں نہ میرے پسندیدہ چینل پر پہلے چلے۔‘‘


میرا جواب یہ تھا کہ پہلے آپ اسے عدالت میں جمع کرا دیں، اس کے بعد ہی میں یہ خبر اپنے چینل پر چلا پاؤں گا۔ اس کے بعد میں نے جوں ہی اس بریکنگ نیوز کے ٹکر اپنے ادارے میں لکھوائے تو کچھ دیر بعد ہی ڈیسک سے ہماری مہربان شہلا رضا کی، بیپر دینے کے لیے، کال آئی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے شہلا نے کہا ’’سمیع بڑی خبر ہے، ایم کیو ایم کا نام آ گیا ہے۔‘‘ میں ابھی فون پر ہی تھا کہ ڈیسک کے ہی ایک سینیئر نے بیپر لینے سے قبل کہا ’’ذرا محتاط ہو کر۔‘‘ جیسے ہی بیپر ختم ہوا، اس کے بعد کچھ دوستوں کی جانب سے خبر کے لیے اور کچھ کی جانب سے اپنی معلومات کے لیے کالز کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔


وہ دن کراچی والوں کے لیے کوئی گرم دن نہیں تھا، لیکن اِس خبر کے بعد دوپہر ہی سے پاکستانی سیاست میں گرماگرمی اور ہل چل مچ گئی۔ خبر کی دھوم ایسی تھی کہ اس کے بعد ایم کیو ایم کے بہت سے ایسے دوست جو اُس کو پسند نہیں کرتے تھے اور جو اس کو پسند کرتے تھے، سب کی کالیں میرے فون پر آنے لگیں۔ میں سب کو جواب دیتے ہوئے ان کو مطمئن کرنے لگا۔

سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس: سپریم کورٹ نے مرکزی ملزمان رحمان بھولا اور زبیر چریا کو بری کردیا

اِس کے بعد دوپہر میں ہائی کورٹ کے باہر سے کسی اور معاملے پر میری لائیو ہٹ تھی، تو ذہن میں یہی تھا کہ وہاں اِس رپورٹ کو بھی نکال کر چلایا جائے۔ اِس کے کچھ مندرجات میرے پاس موجود تھے جو کہ صبح مل گئے تھے، تاہم رینجرز کی جانب سے جے آئی ٹی کی وہ رپورٹ چوں کہ عدالت میں جمع کرائی گئی تھی، اُس کی تصویر لازمی چاہیے تھی۔ تو جب میں اُس رپورٹ کو نکلوانے کے لیے سندھ ہائی کورٹ پہنچا تاکہ اسے تفصیلی پڑھا جا سکے، تو راجہ ثاقب، جواد شعیب، عرفان الحق اور جنید شاہ پہلے سے وہاں موجود تھے۔

وہ دونوں دیگر چینلز سے وابستہ تھے، لیکن ہم نے مل کر کئی خبروں پر ایک ساتھ کام کیا تھا، لیکن اُس دن معاملہ ایسا تھا کہ ہم نے ایک دوسرے کو بتائے بغیر وہاں پہنچے تھے۔ خیر ہم نے وہاں فائل نکالی، راجہ ثاقب نے سب سے پہلے اس کو پڑھنا شروع کیا، ہم سب نے اس کا معائنہ کرنے کے بعد طے کیا کہ شام میں ایک ہی وقت میں دی جائے۔ کچھ آگے پیچھے وقت سے ہم نے اِس سنسنی خیز اسٹوری کو بریک کیا اور عوام تک ایسے پہنچایا کہ شام کے بعد پورے پاکستان میں صرف اِسی پر بحث ہو رہی تھی۔


دفتر میں اس خبر میں بحث ابھی جاری تھی کہ مجھے اے آر وائی نیوز ہیڈ آفس سے کال آئی کہ آج رات کے بُلیٹن میں آپ بیٹھیں گے اور یوں میں رات بلیٹن میں جب جانے لگا تو اُس وقت بھی میں تو بالکل خوف زدہ نہیں تھا تاہم، میرے کچھ سینئرز، مجھ سے محبت رکھنے والے احباب، مجھے نصیحت کر رہے تھے کہ خبر کے جوش میں ہوش نہیں کھو دینا۔ ایک انتہائی مہربان محترم نے مجھے ہدایت کی کہ کینیڈا والے ڈاکٹر صاحب کا نام نہیں لینا۔ اُس دن رات 10 بجے کے آس پاس جب میں اپنے ہیڈ آفس سے نکل رہا تھا تو ہمارے ہیڈ آف نیوز اور اپنے سینئرز کی شاباشی کے ساتھ آفس واپس آیا۔


لیکن، پھر رات گئے خبر ملی کہ شہر کے مختلف علاقوں میں اے آر وائی نیوز کی نشریات غائب ہونا شروع ہو گئی ہے، یہ اس دن سے جڑی ہوئی ایک اور کہانی ہے، جس کی تفصیل اس وقت ممکن نہیں۔ اُس وقت کے بیورو چیف ایس ایم شکیل صاحب نے بھی اس خبر کی بڑی حوصلہ افزائی کی اور ساتھ میں انھوں نے اس پریشر سے آگاہ کیا جو اس خبر کے بعد ادارے کو برداشت کرنا پڑا۔ لیکن یہ ایک ایسا دن تھا جس نے کراچی کے عوام میں متحدہ قومی موومنٹ کا چہرہ اس قدر بھیانک کر دیا کہ، وہ لوگ جو بے خوف تھے، سرِ عام ایم کیو ایم اور اُس کے لوگوں کو تنقید کا نشانہ بنانے لگے۔

اُس وقت بھی ہم دوستوں نے یہ بحث کی تھی یہ ادارے کتنے نااہل ہیں، کہ اتنی اہم معلومات کا 2 سال انتظار کیا، کیوں کہ دل نہ کل یہ ماننے کو تیار تھا کہ ایم کیو ایم کو بدنام کرنے کے لیے کسی ادارے نے اسے نشانہ بنایا ہے، اور نہ آج ماننے کو تیار ہے۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ عبدالرحمٰن بھولا ہو یا زبیر چریا، جیلوں میں گزرے اُن کے دن واپس نہیں لائے جا سکتے۔ اور ایم کیو ایم کو اِس دوران جو سیاسی طور پر نقصان ہوا، وہ کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔

اِس کے ساتھ ساتھ، اب سپریم کورٹ کی جانب سے ان سزاؤں کو کلعدم کیے جانے کے بعد، خود عدالتوں ہی اور دیگر اداروں کی کارکردگی پر بھی کئی سوال اٹھ گئے ہیں۔

اہم ترین

فاروق سمیع
فاروق سمیع
تحقیقاتی صحافت پریقین رکھنے والے فاروق سمیع اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں، دہشت گردی، سیاست اورعدالتوں سے منسلک خبروں پر کڑی نظر رکھتے ہیں۔

مزید خبریں