The news is by your side.

Advertisement

سا نحہ ٔبلدیہ فیکٹری کو چارسال مکمل‘ وزیراعلیٰ سندھ نے رپورٹ طلب کرلی

کراچی: بلدیہ ٹاون فیکٹری کے سانحے کو چار سال پورے ہو گئے،جل کر مر جانے والے سیکڑوں مزدور اور روز سسک سسک کر مرنے والے ان کے ہزاروں پیارے انصاف کے منتظر ہے۔

کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاون کی گارمنٹ فیکٹری میں آتش زدگی تاریخ کا ایک اندوہناک سانحہ ہے، اس کے ہر پہلو میں بےحسی اور سفاکی کی ان گنت داستانیں ہیں۔

ایک محلے سے ایک ساتھ پچاس جنازے اٹھے، بہت سوں کے پیارے دیدار بھی نہیں کر سکے،تہہ خانے میں گرم پانی میں کودنے کے باعث جو اموات ہوئیں انکی کیفیات نا قابل بیان تھیں کون مداوا کر سکتا ہے ان ماؤں کے دکھوں کا نہ پانچ لاکھ نہ دس لاکھ جب تک یہ آنکھیں جیتی ہیں تب تک ان میں اشک ہی رہیں گے۔

112

فیکٹری میں اٹھنے والا دھواں جسمیں انسانی گوشت کی بو تھی اور تین سو غریب محنت کشوں کا لہو،جاتے جاتے آسمان پر ایک تحریر ضرور چھوڑ گیا ہے کہ کون ان کو انصاف دلائے گا، کون ان کے بچوں کو آسرا دے گا، کون ان کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائے گا۔


سانحہ بلدیہ پر دل خون کے آنسو روتا ہے‘ رپورٹ طلب کرلی


وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بلدیہ فیکٹری سانحہ کی چوتھی برسی کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ہم سانحہ بلدیہ کے متاثر خاندانوں کو ضرور انصاف دلائیں گے اور اس واقعے میں ملوث مجرموں کو عبرت ناک سزا ئیں دلاکر ہی رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سانحہ محنت کشوں،خصوصی طور پر خواتین ورکرز کو زندہ جلانے کا دنیا کاسب سے بدترین واقعہ ہے۔

MURAD ALI SHAH

وزیراعلیٰ سندھ کا اس معاملے پر مزید کہنا تھا کہ آج سانحہ بلدیہ کو یاد کرکے دل خون کے آنسو روتا ہے اور ہم ان بے گناہ ورکرز کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ میں محکمہ داخلہ سے اس سانحے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر رہا ہوں کہ اگر اس معاملے میں کوئی کام رہ گیا ہے تو اسے بھی پورا کرلوں۔


10ستمبر2012 کو کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں واقع ایک فیکٹری میں یکایک خوفناک آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں ڈھائی سو سے زائد فیکٹری ورکر اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے۔

111

سانحے کی تفتیش نےجہاں ایک جانب فیکٹری ملازمین کی حفاظت کے تحت اٹھائے گئے اقدامات پرسوالیہ نشان اٹھائے بلکہ مزید کئی شکوک و شبہات کو جنم دیا۔

واقعے کی تحقیقات کے بعد کیس تقریباً داخلِ دفترکردیا گیا تھا کہ 14 جنوری 2015 کوسندھ ہائی کورٹ نےقانون نافذ کرنے والے اداروں سے واقعے کی جے آئی رپورٹ طلب کرلی۔

baldia

عدالت میں پیش کی جانے والی جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق سانحے کا مرکزی ملزم پکڑا جاچکا ہے جس نے دوران تفتیش انکشاف کیا ہے کہ سیاسی جماعت کے اعلیٰ عہدیدار نے فیکٹری مالکان سے بیس کروڑ بھتہ مانگا تھا، فیکٹری مالکان اس معاملے پربات کرنے گئے تواعلیٰ عہدیدارنے لاتعلقی ظاہرکی اورتلخ کلامی بھی کی، جس کے بعد اس عہدیدارسے پارٹی کی ذمہ داریاں بھی واپس لے لی گئیں اوربھتہ نہ ملنے پرکیمیکل پھینک کرعلی انٹرپرائززنامی فیکٹری کر نذرِ آتش کردیا گیا جس کے نتیجے میں 250 سے زائد افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ رضوان قریشی نامی ملزم’کے ایم سی‘کا سینیٹری ورکراورمتحدہ قومی موومنٹ کا کارکن ہے، عدالت نے رینجرز کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنالیاہے۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ اس وقت کے ایک وزیرنے فیکٹری مالکان کے خلاف مقدمہ درج کرایا بعد ازاں سابق وزیرِاعظم نے مالکان کی ضمانت کرائی، تاہم دباؤ پرپیچھے ہٹ گئے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فرنٹ لائن مین نے کیس ختم کرانےکیلئےفیکٹری مالکان سے پندرہ کروڑروپے وصول کیے۔

واضح رہے کہ اس کیس میں متحدہ قومی موومنٹ کے سا بق ڈپٹی کنوینیر انیس قائم خانی بھی گرفتار ہیں ‘ انہوں نے تین مارچ 2016 کو سابق ناظم کراچی سید مصطفیٰ کمال کے ساتھ مل کر پاک سرزمین پارٹی کے نام سے اپنی علیحدہ سیاسی جماعت بنا لی تھی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں