The news is by your side.

Advertisement

کیا آپ جانتے ہیں ؟ اس بچے کو آج قومی ٹیم میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے،

لاہور : کون جانتا تھا کہ آج سے تیرہ سال قبل کرکٹ میچوں کے دوران باؤنڈری کے باہر کھڑے ہوکر گیند اٹھانے والا یہ بچہ مستقبل میں پاکستان کرکٹ ٹیم کا کپتان بنے گا۔ اس بچے کی بے انتہا محنت اور سچی لگن نے اسے آج اس مقام پر پہنچا دیا۔

جی ہاں !! ہم بات کررہے ہیں پاکستان کے مایہ ناز بیٹسمین بابر اعظم کی جنہوں نے کرکٹ کے میدان میں اپنی محنت اور لگن سے اپنے وطن کے ساتھ اپنے والدین کا نام بھی دنیا بھر میں روشن کیا۔

اس حوالے سے قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے ایک انٹرویو میں اپنے ماضی کے یادگار لمحات کو ناظرین سے شیئر کیا اور کریز کے باہر گیند پکڑنے سے لے کر کپتان بننے تک کے سفر کی داستان سنائی۔

پی سی بی کی جاری کردہ ایک ویڈیو میں بابراعظم نے بتایا کہ مجھے سال2007سے کرکٹ کا شوق ہوا اس کے علاوہ مجھے کرکٹ کے کھلاڑیوں کو قریب سے دیکھنے کی بھی حسرت تھی جسے پورا کرنے کیلئے میں نے کسی سے کہا تو انہوں نے مجھے اسٹیڈیم میں بال پکر لگوا دیا۔

بابر اعظم نے بتایا کہ ان دنوں ساؤتھ افریقہ کی ٹیم پاکستان آئی ہوئی تھی،  میں رمضان کے مہینے میں اپنے گھر گلبرگ سے اسٹیڈیم تک روزانہ پیدل جاتا تھا۔

ایک دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہوئے بابر اعظم نے بتایا کہ ایک دن انضی بھائی (انضمام الحق ) کا آخری میچ تھا اور اس ٹیسٹ میچ میں جاوید میانداد کا ریکارڈ توڑنے کیلئے انہیں صرف دو رن درکار تھے لیکن وہ اسٹمپ آؤٹ ہوگئے۔

بابر اعظم نے کہا کہ وہ منظر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جب ڈریسنگ روم میں واپس آکر انضی بھائی نے غصے میں اپنا بیٹ توڑ دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ میرے کرکٹ کیریئر کا سفر بہت مشکلات میں گزرا ہے لیکن اللہ کی مدد سے میں نے تمام مراحل پورے کرلیے اور آج وہ دن ہے کہ جب وہی ساؤتھ افریقہ کی ٹیم آئی ہوئی ہے اور میں قومی ٹیم کی کپتانی کررہا ہوں جو میرے لیے باعث فخر بھی ہے۔

ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے بابر اعظم نے بتایا کہ ساؤتھ افریقہ سے میچ کے دوران جے پی ڈومنی نے عبدالرحمان کو کریز سے نکل کر شارٹ ماری تھی جس کا میں نے باؤنڈری کے باہر آسانی سے کیچ پکڑ لیا اور بال واپس گراؤنڈ میں پھینک دی۔

اسی دوران این بیشم نے کہا کہ اس بچے کے کیچ پکڑنے کے انداز سے مجھے لگتا ہے کہ یہ بچہ آگے چل کچھ نہ کچھ بنے گا۔ یہ بات مجھے آج تک یاد ہے جس سے مجھے خود اعتمادی ملی۔

انٹرویو میں انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ کسی بھی خواہش کو پورا کرنے کیلئے بھرپور محنت، مستقل مزاجی اور لگن کی ضرورت ہوتی ہے اور انسان اپنے بڑے مقصد کو ایک دم حاصل نہیں کرسکتا اس کے لیے چھوٹے چھوٹے مقاصد پورا کرتے ہوئے قدم بہ قدم آگے بڑھنا چاہیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں