The news is by your side.

Advertisement

بلوچستان، گلگت اور سابق فاٹا کے طلبہ کے لیے بڑی خوش خبری

لاہور: گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے بلوچستان، سابق فاٹا اورگلگت کے اسکالر شپ بحال کر دیے۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان، گلگت بلتستان اور قبائلی اضلاع کے طلبہ کے لیے 50 فی صد اور 100 فی صد اسکالر شپ کے اعلانات کیے گئے ہیں۔

پنجاب کی سرکاری جامعات بلوچستان، گلگت اور سابق فاٹا کے طلبہ کو 50 فی صد اسکالرشپس دیں گی، ان کے تمام طلبہ کا ہاسٹل کرایہ 50 فی صد کم ہوگا۔

پنجاب حکومت نے 2 کروڑ گرانٹ دینے کا اعلان بھی کیا ہے، جب کہ ہر سال گرانٹ میں 2 کروڑ کا اضافہ ہوگا، مخیر حضرات رواں سال 200 بچوں کو مفت تعلیم کے لیے گرانٹ دیں گے، 4 سال میں 100 فی صد فیس معافی کی 800 بچوں کوگرانٹ ملےگی۔

واضح رہے کہ بلوچ طلبہ نے بہاالدین زکریا یونی ورسٹی ملتان میں اسکالر شپ ختم ہونے کے خلاف احتجاج شروع کر دیا ہے، آج یونی ورسٹیز میں کوٹہ بحالی کے لیے احتجاج کرنے والے طلبہ کوگورنر پنجاب نے طلب کر کے ان سے ملاقات بھی کی۔

اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ پبلک یونی ورسٹیز 50 فی صد اپنے خرچے سے اسکالرشپس دیں گی، بلوچستان حکومت نے کہا ہے کہ باقی 50 فی صد وظائف وہ پورا کریں گے۔ گورنر نے یہ بھی کہا کہ وہ طلبہ کے وظائف کا خاتمہ نہیں چاہتے لیکن سرکاری جامعات کو مالی دشواریوں کا سامنا ہے۔

ادھر آج پنجاب اسمبلی میں بہاالدین ذکریا یونی ورسٹی میں بلوچ طلبہ کا کوٹہ ختم کرنے کے خلاف قرارداد بھی جمع کرائی گئی ہے، قرارداد مسلم لیگ (ن) کی رکن حنا پرویز بٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی۔

دریں اثنا، آج ن لیگ کی رہنما مریم نواز بھی چیئرنگ کراس پر بلوچ طلبہ کے احتجاجی کیمپ پہنچ گئی تھیں، انھوں نے اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے، یہ اسٹوڈنٹس 12 دن سے سڑکوں پر رُل رہے ہیں، کسی کو اتنی توفیق نہیں ہوئی کہ ان سے آ کر پوچھے۔

مریم نواز نے کہا کہ جو سمجھتے ہیں کہ پنجاب بڑا بھائی ہے، میں انھیں کہتی ہوں بلوچستان بڑا بھائی ہے، ان اسٹوڈنٹس کا کوٹہ، فیس اور اسکالر شپ بحال ہونے چاہیئں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں