site
stats
پاکستان

بلوچستان کیلئے 2016تلخ اور دلخراش یادوں کا سال رہا

کوئٹہ : بلوچستان میں گزشتہ سال کی نسبت 2016میں دہشتگردی کے واقعات اور جانی نقصان میں اضافہ ہوا، پانچ خودکش دھماکوں سمیت 260واقعات میں 340افراد جاں بحق 638زخمی ہوئے، انفارمیشن بیسڈ کارروائیوں میں 351 دہشتگردوں کو ٹھکانے لگایا گیا۔

بلوچستان کیلئے2016تلخ اور دلخراش یادوں کا سال رہا، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 146بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ سمیت مختلف قسم کی دہشتگردی کے 255واقعات نے ایک سو اڑتیس افراد کی جان لی۔

جنوری میں پولیس، فروری میں ایف سی ، اگست میں وکلاء، اکتوبر میں پولیس ٹریننگ سینٹر اور پھر نومبر میں شاہ نورانی پر خودکش حملوں میں دو سو دو افراد لقمہ اجل بنے، ان پانچ واقعات کے بھاری نقصان نے دوہزار سولہ کو گزشتہ تین سال کی نسبت خوانی ٹھہرایا۔

صوبے میں سیکورٹی فورسز پر حملوں میں کمی ہوئی، 99واقعات میں 166اہلکار شہید 295زخمی ہوئے، جن میں بڑی تعداد پولیس کی ہے ، فرقہ واریت کے واقعات میں بھی کمی آئی۔

تاہم کوئٹہ میں چار خواتین کا قتل غیرمعمولی واقعہ رہا، سب سے زیادہ واقعات ڈیرہ بگٹی میں67 ہوئے جبکہ جانی نقصان کے حوالے سے کوئٹہ شدید متاثر ضلع رہا، جہاں 52واقعات میں 219افراد لقمہ اجل بنے جن میں بیشتر سیکورٹی اہلکار ہیں۔

سال بھرکے دوران اپیکس کمیٹی کے 8 اجلاس منعقد ہوئے جبکہ 3ہزار 92کومبنگ آپریشنز میں سول ہسپتال خودکش دھماکے کے ذمہ داروں سمیت 351دہشتگرد ہلاک جبکہ 7714گرفتار کئے گئے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top