The news is by your side.

Advertisement

بلوچستان اسمبلی مچھلی بازاربن گئی، حکومتی اور اپوزیشن اراکین میں تلخ کلامی

کوئٹہ : بلوچستان اسمبلی کا اجلاس آج بھی ہنگامہ خیز رہا، اسمبلی تحلیل ہونے سے ایک دن پہلے ارکان لڑ پڑے، ایوان مچھلی بازار بن گیا، سرفراز بگٹی اور پی کے میپ کے نصر اللہ زہری دست و گریباں ہوتے ہوتے رہ گئے۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان اسمبلی کااجلاس آج بھی ہنگامے کی نذر ہوگیا، اسمبلی میں پیش ہونے والے قوانین پر اپوزیشن اراکین نے اعتراض کیا۔

ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے شدید نعرے بازی کی ، اس موقع پر کان پڑی آواز سنائی دینا مشکل ہوگیا، شور شرابہ کے دوران نصر اللہ زہری کے طنز پر سرفراز بگٹی آگ بگولہ ہو گئے، اسپیکر راحیلہ درانی چپ کراتی رہ گئیں، نوبت ہاتھا پائی تک پہنچنے والی تھی کہ اراکین نے بیچ بچاؤ کرالیا۔

قرارداد پیش کرنے پر بلوچستان اسمبلی میں غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال کیا گیا، اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے غیرپارلیمانی الفاظ حذف کرادیئے۔

اپوزیشن رکن سیدلیاقت آغا نے کہا کہ اس طرح بل اچانک پیش نہیں کیا جاسکتا، آپ اسمبلی رولز کے قوانین کی خلاف ورزی کررہے ہیں جواب میں سرفراز بگٹی نے کہا کہ اسمبلی کو مچھلی بازارمت بنائیں، ایک ایک کرکے بات کریں، اپوزیشن بات کرے ہم دلیل کے ساتھ جواب دیں گے۔

مزید پڑھیں: بلوچستان اسمبلی میں عام انتخابات مؤخر کرنے کی قرارداد جمع

واضح رہے کہ بلوچستان میں عام انتخابات مؤخر کرنے کی قرارداد جمع کرائی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جولائی کے مہینے میں لوگ فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے اور مون سون کے موسم کی وجہ سے اکثر لوگ نقل مکانی بھی کرتے ہیں لہٰذا انتخابات کا انعقاد اگست میں کیا جائے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں