The news is by your side.

Advertisement

بلوچستان کا سندھ پر پانی چوری کا الزام ، حب ڈیم سے پانی روکنے کی دھمکی

کوئٹہ : ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے سندھ حکومت پپر پانی چوری کا الزام عائد کرتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر سندھ حکومت کی ہٹ دھرمی برقراررہی تو مجبوراً حب ڈیم سے پانی روکنا پڑے گا۔

تفصیلات کے مطابق ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہگوادر سی پیک کامرکز ہے، کل وزیراعظم نےایک سوچ کااظہارکیاکہ ناراض لوگوں سےبات کی جائے، بلوچستان حکومت وزیراعظم کی اس سوچ کوسراہتی ہے ، بلوچستان حکومت نے3سال میں بڑے بڑےپراجیکٹ کااعلان کیاہے، انشااللہ امید ہے بلوچستان اب نظرانداز نہیں ہوگا۔

لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت کو وفاق سے نہیں سندھ حکومت سے مسئلہ ہے، سندھ حکومت بلوچستان کی زمین کو بنجر کرنے پر تلی ہوئی ہے، بلوچستان کا1991میں ارسا کیساتھ معاہدہ ہوا تھا، گزشتہ20سال میں سندھ نے ہمارا پانی کاحصہ کبھی پورانہیں دیا۔

ترجمان بلوچستان حکومت نے کہا کہ ارسا کیساتھ بلوچستان کا 10ہزار 900 کیوسک پانی کا معاہدہ ہے ، معاہدے کے برعکس بلوچستان کو صرف 7ہزار کیوسک پانی مل رہاہے، مجموعی طورپر 2ماہ میں بلوچستان کا 42فیصد حق ماراگیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کی طرف سے ہمیں 42 فیصد پانی کی شارٹ فال کا سامنا ہے اور بلوچستان کو10 ہزار981 کیوسک پانی کی ضرورت ہے، بلوچستان کوپانی مہیاکرنےکی ذمہ داری سندھ کی ہے لیکن مرادعلی شاہ نے انکار کیا تھاکہ پورا پانی بلوچستان کو مہیا نہیں کیا جائے گا۔

لیاقت شاہوانی نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سےہماری شکایتوں کومستردکردیاجاتاہے، ہم واپڈاسےدرخواست کرتےہیں وہ اس معاملےمیں مددکرے، سندھ حکومت جمہوریت اور وفاقیت کا دعویٰ کرتی ہے، سندھ حکومت کی جانب سے 20سال سے بلوچستان کے حق پر ڈاکہ ڈالاجارہاہے۔

ترجمان بلوچستان حکومت نے دھمکی دی کہ اگر سندھ حکومت کی ہٹ دھرمی برقرار رہی تو مجبوراً حب ڈیم سے پانی روکنا پڑے گا، ہمیں 500کیوسک پانی تونسہ بیراج پنجاب سے ملتا ہے، بلوچستان میں پینے کے پانی کی قلت کا سامنا ہے، سندھ حکومت ہمارا پانی روک رہی ہے۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت ارسا معاہدے کے تحت بلوچستان کو پانی مہیا کرے، اس سال بلوچستان کی زراعت کو 77ارب کا نقصان ہورہا ہے، جس کی ذمہ دارسندھ حکومت ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں