site
stats
عالمی خبریں

اذان پر پابندی کی تجویز کا پشت پناہ اسرائیلی وزیراعظم کا بیٹا نکلا

یروشلم: اسرائیلی پارلیمنٹ میں اذان پر پابندی کی تجویز کے پیچھے اسرائیلی وزیراعظم کے بیٹے کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ میں ایک تجویز پیش کی گئی جس میں مسلمانوں کی عبادت گاہ سے بلند ہوتی ہوئی آواز اذان کو خلل قرار دیتے ہوئے اذان پر پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا۔

ایک اسرائیلی ٹی وی نے دعویٰ کیا کہ اذان پر پابندی کے قانون کے پیچھے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے بیٹے کا ہاتھ ہے، اسرائیلی وزیراعظم کا بیٹا قیساریا میں نتین یاہو خاندان کے گھر میں اپنے ایک دوست کے ہمراہ موجود تھا کہ اس دوران اس کے غیرملکی دوست کو اذان کی آواز سے الجھن محسوس ہوئی جس پر اس نے یہ فیصلہ کیا۔

یاد رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نے رات 11 بجے سے صبح 7 بجے تک اذان پر پابندی کی تجویز پیش کی ہے جب کہ پارلیمنٹ میں موجودہ صیہونی ارکان نے اس تجویز کو بل بعدازاں ایکٹ بنا کر نافذ کرنے حمایت کی ہے۔

بیت المقدس کی سپریم اسلامک کمیٹی نے متعلقہ تجویز کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نازیبا عمل کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

اسرائیلی پارلیمنٹ کے عرب رکن ڈاکٹر طیبی کا کہنا ہے کہ اگر اذان پر پابندی عائد کی گئی تو وہ پابندی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے کیوں کہ پابندی کا مقصد مسلمانوں کے حقوق سلب کرتے ہوئے انہیں امتیازی سلوک کا نشانہ بناناہے ۔

پابندی کی تجویز کے خلاف اسرائیلی پارلیمنٹ کے مسلمان رکن ابوعرار نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں اذان دے کر اس پابندی کو مسترد کردیا، اذان کے وقت صیہونی ارکان نے شور مچایا لیکن ابو عرار نے اذان مکمل کرکے ہی دم لیا۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی پارلیمنٹ میں اذان، یہودی طیش میں‌ آگئے

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top