The news is by your side.

Advertisement

پابندی ازدواج اطفال ترمیمی بل 2018 کی منظوری کی تحریک سینیٹ میں پیش

جے یو آئی ف کا ترمیمی بل کی کمیٹی پر اعتراض، کمیٹی نے ہمیں نہیں بلایا، بل نظریاتی کونسل میں جانا چاہیے تھا

اسلام آباد: پابندی ازدواج اطفال ترمیمی بل 2018 کی منظوری کی تحریک سینیٹ میں پیش کر دی گئی، تحریک سینیٹر شیری رحمان نے پیش کی۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ اجلاس کے دوران آج پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے بچوں کی شادی پر پابندی کا ترمیمی بل منظوری کے لیے پیش کیا۔

میری بھی زبردستی شادی کروا ئی گئی۔

شبلی فراز سینیٹر، قائد ایوان

سینیٹر شیری رحمان نے بل کے حوالے سے کہا کہ ہم معاشرے میں مغربی اقدار نہیں لا رہے، ہر 20 منٹ میں زچگی میں کم عمری سے اموات ہو رہی ہیں، سعودی شوریٰ کونسل نے شادی کی عمر 18 سال مقرر کرنے کی سفارش کی ہے۔

جمعیت علماے اسلام (ف) نے پابندی ازدواج اطفال ترمیمی بل کے لیے بنائی گئی کمیٹی پر اعتراض کیا، عبد الغفور حیدری نے کہا کہ کمیٹی نے ہمیں نہیں بلایا، بل نظریاتی کونسل میں جانا چاہیے تھا۔

سینیٹر عطا الرحمان نے بھی کہا کہ ترمیمی بل کو نظریاتی کونسل میں بھیج دیا جائے، کونسل سے اس پر شرعی رائے لی جائے، اسلام کے مطابق تو بلوغت کے بعد شادی کر دینی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:  سینیٹ نے کم عمری کی شادیوں کے خلاف بل منظور کرلیا

وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے بھی بل کے نظریاتی کونسل بھیجے جانے کی حمایت کی، اور کہا کہ آئین پاکستان ہمیں شرعی رائے لینے کا پابند کرتا ہے، تاہم انھوں نے بلوغت کے حوالے سے کہا کہ اسلام میں بچے کی بلوغت کا تعلق عمر سے نہیں ہے۔

پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے سینیٹ کے قائد ایوان شبلی فراز نے کہا ’میں نے اسلامی نظریاتی کونسل کا طریقۂ کار دیکھا جو واضح نہیں تھا، کونسل ارکان کبھی ایک طرف کی بات کرتے کبھی دوسری طرف کی، ہم نہیں چاہتے کہ نکاح کے وقت پولیس آ ئے اور شناختی کارڈ چیک کرے، زبردستی شادی کا عمر سے تعلق نہیں، میری بھی زبردستی شادی کروا ئی گئی۔‘

سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ 18 سال سے قبل شادی پر پابندی غیر شرعی ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ زچگی میں اموات کم عمری کی وجہ سے نہیں بلکہ طبی سہولیات نہ ہونے سے ہو رہی ہیں۔

بل کے نظریاتی کونسل بھیجے جانے پر سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ ماضی کا پابندیٔ زدواج اطفال بل بھی نظریاتی کونسل میں پڑا ہوا ہے، کونسل بھیجنے سے معاملہ سرد خانے کی نذر ہو جائے گا، عمر مقرر کرنے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ عمان، ترکی اور یو اے ای میں بھی شادی کی عمر 18 سال مقرر ہے۔

وفاقی مذہبی امور برائے بین المذاہب ہم آہنگی نور الحق قادری نے کہا کہ ماضی میں قومی اسمبلی میں پابندیٔ ازدواج اطفال بل پیش کیا گیا تو نفیسہ عنایت اور ماروی میمن کا بل نظریاتی کونسل نے غیر شرعی قرار دیا، اور قومی اسمبلی میں بھی بل واپس لیا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں