The news is by your side.

Advertisement

شاپنگ بیگزپرپابندی، ہائی کورٹ نے حکومت سے قانون کا مسودہ طلب کرلیا

لاہور: عدالت عالیہ نے پنجاب میں شاپنگ بیگز کے استعمال پر پابندی کی درخواست پر حکومت سے پابندی کے قانون کا مسودہ طلب کر لیا۔ 

تفصیلات کے مطابق شاپنگ بیگز پر پابندی سے متعلق مقدمے کی سماعت جسٹس  مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی، درخواست ابوذر سلمان نیازی نامی درخواست گزار کی جانب سے دائر کی گئی تھی ۔

درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے قرار دیا کہ چند لاکھ لوگوں کے روزگار کی وجہ سے کروڑوں افراد کی زندگی کو خطرے میں نہیں ڈالا جاسکتا، تاہم حکومت کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ پابندی سے متاثر افراد کا ازالہ کیسے کیا جائے۔

چیف سیکرٹری پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ اس حوالے سے قانون سازی کی جارہی ہے جس میں تمام پہلوؤں کو دیکھا جا رہا ہے ۔

درخواست گزار سلمان نیازی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ شاپنگ بیگز کی وجہ سے لوگ یرقان، کینسر ودیگر بیماریاں پھیل رہی ہیں۔  پلاسٹک کے شاپنگ بیگ انتہائی مضر صحت ہیں جبکہ پلاسٹک سے بنے کپ اور سٹراز بھی انسانی صحت کے لیے خطرناک ہیں اس لیے عدالت اس پر پابندی کا حکم دے ۔

عدالت نے کیس کی سماعت دس اکتوبر تک سماعت م ملتوی کرتے ہوئے چیف سیکرٹری سے قانون سازی کا مسودہ طلب کرلیا ہے جس کے تحت پلاسٹک کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

پلاسٹک کی تباہ کاری کے بارے میں مزید مضامین پڑھیں

یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں پاکستان تحریک انصاف کی رکن سعدیہ سہیل رانا نے پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران پلاسٹک بیگز کی فروخت کے خلاف تحریک التوا جمع کروائی تھی۔تحریک التوا کے متن میں کہا گیا تھا کہ ماحول دشمن شاپنگ بیگز پر پابندی آج تک یقینی نہ بنائی جا سکی۔ شاپنگ بیگز انسانی صحت کی خرابی کا باعث ہیںرکن صوبائی اسمبلی کا کہنا تھا کہ پلاسٹک کے شاپنگ بیگز سیوریج نظام کے لیے تباہ کن اور آبی حیات کے لیے جان لیوا ہیں۔

تحریک کے بعد پنجاب اسمبلی نے اس معاملے پر پیش رفت کرتے ہوئے اقدامات کیے تھے تاہم تاحال پلاسٹک بیگز پر پابندی لگانا ممکن نہیں ہوسکا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں