The news is by your side.

Advertisement

سانحہ اے پی ایس میں ملوث افراد کافروں سے بھی بدتر ہیں، صوفی محمد

پشاور: کالعدم جماعت نفاذ شریعت محمدی کے امیر صوفی محمد نے کہا ہے کہ  سانحہ آرمی پبلک اسکول کےذمہ دار کافروں سےبھی بدترہیں، حکومت اور ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے مرتد ہیں، پاک فوج ملک کی محافظ ہے، فضل اللہ نے غیر مسلموں سے زیادہ اسلام کو نقصان پہنچایا۔

نجی ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے صوفی محمد کا کہنا تھا کہ حکومت نے مئی 1994 میں شریعت محمدی کا اعلان کیا مگر ہم نے اس قانون کا بائیکاٹ کیا اور پرامن تحریک شروع کی۔

اُن کا کہنا تھا کہ امریکا کے افغانستان آنے سے قبل ہماری تحریک بالکل پرامن تھی مگر اُس کے بعد فضل اللہ نے طالبان سے رابطہ کیا اور نفاذ شریعت محمدی پر قبضہ کر کے اُسے ختم کیا، کابل کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے میں نے واپس پاکستان آنے کا فیصلہ کیا تو پارا چنار میں مجھے گرفتار کیا گیا۔

نفاذ شریعت محمدی کے امیر کا کہنا تھا کہ اسلام نے اسکولوں پر حملے، ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانا اور اپنی ہی فوج سے لڑنے کو حرام قرار دیا حتیٰ کہ غیر مسلموں کے بچوں اور خواتین کو  قتل کرنے سے روکا ہے۔

مزید پڑھیں: کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے امیرصوفی محمد کو رہا کردیا گیا

صوفی محمد کا کہنا تھا کہ طالبان میں بھی خوارج کی تمام نشانیاں موجود ہیں وہ مجاہد نہیں اور فضل اللہ اُس سے بھی بدتر ہے، پاک فوج کے خلاف لڑنے والوں کا کمانڈر مرتد ہوچکا جس کے بعد اُس کا نکاح بھی فسق ہوچکا جبکہ شریعت کے مطابق اُس کی سزا صرف اور صرف موت ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق تعلیمی درسگاہوں پر حملے کرنا حرام ہیں، سانحہ آرمی پبلک اسکول کے ذمہ دار غیر مسلم ہیں کیونکہ انہوں نے معصوم بچوں کو بغیر وجہ کے بے دردی سے شہید کیا۔

تحریک نفاذ شریعت کے امیر کا کہنا تھا کہ پاک فوج افغانستان اور بھارت کی سازشوں سے ملک کو محفوظ بنا رہی ہے، فوج کے ساتھ جنگ کرنا جہاد نہیں بلکہ حرام عمل ہے، اگر پاک فوج نہیں ہوتی تو ملک کو بہت بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا، پاکستان میں اصل جہاد پاک فوج کے جوان کررہے ہیں۔

خیال رہے کہ عدالت نے صوفی محمد کے خلاف 21 مقدمات نمٹاتے ہوئے انہیں 15 جنوری کو رہا کرنے کا حکم جاری کیا تھا جس کے بعد انہیں صوبائی حکومت نے رہا کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں :  مولانا صوفی محمد کی درخواست ضمانت منظور

واضح رہے کہ 3 جولائی2009کو مولانا صوفی محمد کیخلاف حکومت مخالف تقاریر ودیگر الزامات پر ایف آئی آر درج کی گئی تھی،  دو بیٹوں اور کمانڈر سفیر اللہ کو بھی اس مقدمے میں نامزدکیا گیا تھا۔

بعد ازاں 26 جولائی 2009 کو پشاور سے ان کے دو بیٹوں ضیا اللہ اور رضوان اللہ سمیت حراست میں لیا گیا تھا۔

مولانا کیخلاف غیر قانونی جلسے، کارسرکار میں مداخلت اور دہشت گردی کے تین مقدمات پشاور سینٹرل جیل میں زیر سماعت تھے

خیال رہے کہ 2007 میں وادی سوات میں اٹھنے والی انتہا پسندانہ تحریک میں بھی صوفی محمد کا مرکزی کردار تھا تاہم اس مزاحمتی تحریک کو پاکستانی فوج کے ایک خصوصی آپریشن میں اپریل 2009 میں ختم کر دیا گیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر ضرور شیئر کریں۔ 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں