ہفتہ, جولائی 11, 2026
اشتہار

کیلے کا درخت قیمتی خام مال بن گیا، پاکستانی طالب علم کا عالمی اعزاز

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی : جرمنی میں پاکستان کے ہونہار طالب علم نے عالمی اعزاز حاصل کرکے ملک و قوم کا نام روشن کردیا، انہوں نے کیلے کے درخت کے تنے سے اعلیٰ معیار کا فائبر تیار کیا۔

پاکستان کے لیے یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے کہ بلوچستان یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے نوجوان محقق اور مکینیکل انجینئر محمد فراز نے کیلے کے درخت ضائع ہونے والے تنوں (پھوک) سے ماحول دوست اور انتہائی پائیدار فائبر تیار کر کے جرمنی میں منعقدہ عالمی مقابلے میں ایوارڈ "Discover Natural Fibre Initiative (DNFI) Award”جیت لیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں نوجوان محقق محمد فراز نے ٰخصوصی گفتگو کرتے ہوئے اپنے پروجیکٹ تحقیق سے متعلق ناظرین کو آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس تحقیق کا آغاز یونیورسٹی کے فائنل ایئر پراجیکٹ سے ہوا، ان کے سپروائزر ڈاکٹر قاسم صدیقی کی رہنمائی میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایسی تحقیق کی جائے جو صرف تھیسس تک محدود نہ رہے بلکہ پاکستان کی معیشت اور صنعت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو۔

طالب علم  نے بتایا کہ پاکستان میں کیلے کے درخت کا تنا پھل دینے کے بعد ضائع کر دیا جاتا ہے، حالانکہ اس سے قیمتی قدرتی فائبر حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اسی مقصد کے لیے انہوں نے ایک خصوصی مشین تیار کی ہے، جسے بعد ازاں پیٹنٹ بھی کرایا گیا۔ اس منصوبے میں محمد فواد فاروق اور نیچرل فائبر کمپنی نے بھی معاونت فراہم کی۔

انجینئر محمد فراز کے مطابق اس مشین سے حاصل ہونے والا فائبر انتہائی مضبوط، ہلکا، بایوڈی گریڈیبل اور ماحول دوست ہے، جسے کمپوزٹ میٹریل کی تیاری میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ سمیت عالمی آٹوموٹو صنعت اس قسم کے ہلکے اور مضبوط قدرتی مواد میں خصوصی دلچسپی لے رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ قدرتی فائبر کے استعمال سے پلاسٹک پر انحصار کم کیا جاسکتا ہے، جس سے ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان اپنے قدرتی وسائل سے تیار ہونے والی ماحول دوست مصنوعات کو فروغ دے تو نہ صرف ملکی صنعت مستحکم ہوگی بلکہ عالمی سطح پر بھی مثبت کردار ادا کیا جا سکے گا۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں