ڈھاکہ(9 فروری 2026): بنگلہ دیش کے سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ اقبال کریم بھویان نے اعتراف کیا ہے کہ خفیہ اداروں نے سیاستدانوں کو اٹھا کر تشدد کا نشانہ بنایا۔
بنگلہ دیش کے سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ اقبال کریم بھویان نے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل میں اعتراف کیا ہے کہ ملک کے خفیہ اداروں نے سیاستدانوں کو اٹھا کر خفیہ قید خانوں میں رکھا جہاں ان پر شدید تشدد کیا گیا۔
میجر جنرل ریٹائرڈ ضیا الاحسن کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں بطور گواہ بیان دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2007 سے 2009 کے درمیان ڈی جی ایف آئی نے وزراء اور سیاستدانوں کو اغوا کیا۔
سابق آرمی چیف نے انکشاف کیا کہ خالدہ ضیاء کے بیٹے طارق رحمان کو بھی اٹھایا گیا اور غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ڈی جی ایف آئی ایک مرکزی کنٹرولنگ اتھارٹی تھی، جہاں عام شہریوں کو خفیہ سیلز میں رکھنا معمول تھا اور افسران کو زیر حراست افراد کے ساتھ من مانی کرنے کی کھلی چھوٹ تھی۔
جنرل ریٹائرڈ اقبال کریم بھویان نے فوج کے ‘آپریشن کلین ہارٹ’ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران کئی افراد ہلاک ہوئے، لیکن بعد میں ملوث افراد کو استثنیٰ دے دیا گیا جو کہ درحقیقت ‘قتل کے لائسنس’ کے مترادف تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ خفیہ ادارے قانون سے بالا تر ہو کر کام کر رہے تھے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


