بدھ, اگست 19, 2026
اشتہار

بنگلا دیش میں 2009 میں ہونے والی بغاوت میں بھارت ملوث نکلا، قتل عام کے حقائق سامنے آگئے

اشتہار

حیرت انگیز

ڈھاکہ(یکم دسمبر 2025): بنگلا دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس کے قائم تحقیقاتی کمیشن نے رپورٹ جاری کردی۔

بنگلا دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس کے قائم تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق شیخ حسینہ واجد اور بھارت بنگلا دیشی فوجی افسران کے قتل میں ملوث ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ڈھاکا میں فوجی افسران و سویلینز کے قتل عام میں بھارت ملوث ہے، سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے حکم پر بنگلا دیش رائفلز کی بغاوت کچلنے کیلئے 74 افراد کو قتل کیا گیا، جس میں اعلیٰ فوجی افسران بھی شامل تھے۔

رپورٹ کے مطابق بنگلا دیشی فوجی افسران اور سویلینزکے قتل میں بھارت کا مضبوط کردار تھا، بھارت کا مقصد بنگلا دیشی افواج کو کمزور کرنا اور بنگلا دیش کو غیر مستحکم کرنا تھا۔

جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بھارت کی ایما پر سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے قتل عام کا گرین سگنل دیا، سابق رکن پارلیمان فضل نور تاپوش نے اس میں اہم کردار ادا کیا۔

کمیشن رپورٹ کے مطابق پہلی انکوائری میں فوجیوں کو مورد الزام ٹھہرایا گیا تھا، لیکن حکومت کے مخالفین نے الزام لگایا تھا، شیخ حسینہ نے فوج کو کمزور کرنے کے لیے بغاوت کا منصوبہ خود بنایا تھا۔

عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس نے انکوائری رپورٹ کا خیر مقدم کیا اور کہا قوم کو قتل عام کی وجوہات سے اندھیرے میں رکھا گیا، انکوائری کمیشن رپورٹ سے قتل عام کے حقائق سامنے آگئے۔

بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم یا’’سونے کی ملکہ‘‘ ! حسینہ واجد کے لاکر سے 10 کلو سونا برآمد

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں