پیر, جولائی 20, 2026
اشتہار

بنگلہ دیش کی صورتحال پر یورپی یونین کا ردعمل

اشتہار

حیرت انگیز

بنگلہ دیش میں حسینہ واجد حکومت کے خاتمے اور فوج کے عارضی طور پر ملک کا نظم ونسق سنبھالنے کے بعد یورپی یونین کا ردعمل سامنے آیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ جوزپ بوریل نے اپنے جاری بیان میں کہا ہے کہ بنگلہ دیش میں رونما ہونے والے واقعات پر گہری نظری ہے اور ہم فریقین سے پُر سکون رہنے اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔

جوزپ بوریل نے کہا کہ بنگلہ دیش میں انسانی حقوق اور جمہوری اصولوں کا مکمل احترام کیا جائے اور جمہوری طور پر منتخب حکومت کی طرف منظم اور پُر امن منتقلی اقتدار کو یقینی بنایا جائے۔

یورپی یونین نے بلاجواز حراست لیے گئے افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا احتساب ضروری ہے۔

واضح رہے کہ سخت عوامی احتجاج اور دباؤ کے بعد شیخ حسینہ واجد وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہوکر بہن کے ہمراہ بھارت فرار ہوگئی تھیں۔

بنگلہ دیش میں فوج نے عارضی طور پر ملک کا نظم ونسق سنبھالا ہوا ہے اور جلد مخلوط عبوری حکومت قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ آرمی چیف نے گزشتہ روز قوم سے اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ اب بنگلہ دیش کے تمام فیصلے فوج کرے گی۔

سیاسی صورتحال تبدیل ہونے کے بعد بنگلہ دیش کے صدر نے سابق وزیراعظم خالدہ ضیا سمیت تمام سیاسی رہنماؤں اور بے گناہ افراد کی فوری رہائی اور فوج کو شرپسندوں سے سختی سے نمٹنے کا حکم دیا ہے۔

شیخ حسینہ واجد مزید کتنے دن بھارت میں رہیں گی؟

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں