The news is by your side.

Advertisement

بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنماء مطیع الرحمٰن کی سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھنے کا فیصلہ

ڈھاکہ:  بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نےجماعت اسلامی کےامیر مطیع الرحمان نظامی کی رحم اپیل کو مسترد کرتے ہوئے ٹریبونل کے فیصلے کو برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کی سب سے بڑی مذہبی جماعت کے امیر مطیع الرحمان نے سزائے موت کے خلاف سرپم کورٹ سے رحم کی درخواست کی تھی،جسے مسترد کردیا گیا ہے۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل نے عدالت کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے برطانوی خبررساں ادارے کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے ٹریبونل کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئےرحم کی اپیل کو مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سزا سے بچنے کے لئے اگر ملزم چاہے تو بنگلہ دیش کے صدر سے رحم کی اپیل کرسکتا ہے، اگر وہ اس اپیل کو مسترد کرتے ہیں تو پھر نظامی کو تختہ دار پر لٹکایا جاسکتا ہے۔

وکیلِ استغاثہ نے عدالت میں موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ملزم 1971 میں پاکستان کے تحت بننے والی اسلامی تنظیموں البدر، الشمس کی حمایت اور مدد کرنے میں ملوث ہے، اس تنظیم نے کئی بنگالی ڈاکٹرز،صحافیوں اورسینکٹروں افراد کو قتل کیا ہے، جنگ کے دوران لوگوں کو اغوا کرکے ذہنی معذور بنایا گیا، بہت سارے شہریوں کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر قتل کیا گیا اور ان کی لاشوں کو دارالحکومت کے مضافات میں دفنا دیا گیا۔

بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے جنگی جرائم کی تحقیقات کے لئے 2010 میں ایک کمیشن قائم کیا تھا، جس کے فیصلوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے اب تک بنگلہ دیش کے4 سیاستدانوں کو پھانسی دی جاچکی ہے۔

دوسری جانب سزائے موت کی سزا برقرار رکھنے کے فیصلے کے بعد بنگلہ دیش کے شہر ڈھاکہ میں امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لئے سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے ۔ اس فیصلے پر جماعت اسلامی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کی حکومت قانون کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرہی ہے، جبکہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالتی طریقہ کار کی تحقیقات انصاف کے تقاضوں پورا نہیں کرتی۔

نظامی کو2000میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا امیر مقرر کیا گیا تھا،جبکہ بنگال میں 2001 سے 2006 میں وہ اسلامی اتحاد کی حکومت میں بنگلہ دیش کے وزیر بھی رہ چکے ہیں۔

واضح رہے کہ امیرِ جماعت اسلامی پر الزامات عائد ہیں کہ انہوں نے 1971 کی جنگ میں مخالفین کو قتل اور لڑکیوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں