(12 فروری 2026): بنگلہ دیش کی معزول سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے ملک میں ہونے والے عام انتخابات کو ڈھونگ اور مذاق قرار دیتے ہوئے پولنگ کی منسوخی اور چیف ایڈوائزر محمد یونس کی برطرفی کا مطالبہ کر دیا۔
انڈین میڈیا کے مطابق بنگلہ دیش میں عام انتخابات کیلیے پولنگ ختم ہونے کے بعد شیخ حسینہ نے اپنے بیان میں کہا کہ غیر قانونی اور غیر آئینی ذرائع سے اقتدار سنبھالنے والے محمد یونس کی جانب سے کروائے گئے نام نہاد عام انتخابات دراصل ایک سوچی سمجھی سازش اور مذاق ہے، عوامی لیگ اور ووٹرز کے بغیر ایک دھوکہ دہی پر مبنی انتخابی عمل ترتیب دیا گیا۔
Bangladesh Elections 2026 تمام خبریں
سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم نے کہا کہ 11 فروری کی شام سے ہی پولنگ اسینٹرز پر قبضے، فائرنگ، ووٹ خریدنے کیلیے پیسے کے بے دریغ استعمال، بیلٹ پیپرز پر مہریں لگانے اور رزلٹ شیٹس پر ایجنٹوں کے دستخط لینے کے ذریعے اس مذاق کا آغاز ہوگیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: حسینہ واجد کے دور میں ہزاروں جبری گمشدگیاں رپورٹ
’12 فروری کی صبح سے ملک بھر کے بیشتر پولنگ مراکز میں ووٹرز کا تناسب انتہائی کم رہا۔ دارالحکومت اور ملک کے دیگر حصوں میں کئی پولنگ اسٹیشنز ووٹرز سے مکمل طور پر خالی تھے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق صبح 11 بجے تک ووٹرز کا تناسب صرف 14.96 فیصد تھا، یہ کم شرکت ثابت کرتی ہے کہ عوام نے عوامی لیگ کے بغیر ہونے والے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا اور انہیں مسترد کر دیا۔‘
بنگلادیش الیکشن لائیو: ووٹوں کی گنتی جاری، دھاندلی کے الزامات
شیخ حسینہ کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں عوامی لیگ کے ووٹرز، حامیوں، خیر خواہوں اور اقلیتی برادریوں کو نشانہ بناتے ہوئے مسلسل حملے، گرفتاریاں، دھمکیاں اور خوف کا ماحول پیدا کیا گیا تاکہ انہیں زبردستی پولنگ اسٹیشنز تک لایا جا سکے۔
اپنے بیان میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان عام انتخابات کو منسوخ کیا جائے، محمد یونس استعفیٰ دیں، جھوٹے مقدمات واپس لے کر تمام سیاسی قیدیوں بشمول اساتذہ، صحافیوں، دانشوروں اور پیشہ ور افراد کو رہا کیا جائے، عوامی لیگ کی سرگرمیوں پر عائد معطلی ختم کی جائے اور ایک غیر جانبدار نگران حکومت کے تحت آزادانہ، منصفانہ اور جامع انتخابات کے انعقاد کے ذریعے عوام کے ووٹ کا حق بحال کیا جائے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


