The news is by your side.

Advertisement

بنگلا دیش میں خونی انتخابات، پولنگ کے دوران 17 افراد ہلاک

ڈھاکا : بنگلا دیش میں گیارہویں عام انتخابات کے لیے جاری ووٹنگ کا عمل صبح 8 بجے سے جاری ہے، جب کہ پُر تشدد واقعات میں اب تک 17 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق بنگلا دیش میں عام انتخابات کے لیے سخت سیکورٹی میں ووٹنگ کا عمل جاری ہے، انتخابات خونی رنگ اختیار کر چکے ہیں، ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ہے، کئی پولنگ اسٹیشنز پر حکومتی جماعت کے کارکنوں نے قبضہ جما لیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ واجد کو بی این پی کی زیر قیادت قائم اتحاد وزرات عظمیٰ کی دوڑ سے باہر کرسکتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ بنگلا دیش کی قومی اسمبلی کی تین سو نشتوں پر 10 ہزار کروڑ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کررہے ہیں جن کےلیے ملک بھر میں 40 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں۔

بنگلا دیش عام انتخابات کے دوران پُر تشدد واقعات سے نمٹنے کےلیے 6 لاکھ سیکیورٹی اہلکاروں سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق بشخالی میں پولیس کی فائرنگ سے اپوزیشن جماعت کا کارکن، بنگلادیش کے علاقے رنگا متی میں عوامی لیگ کا کارکن سمیت اب تک 11 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

مقامی خبر رساں اداروں کو کہنا ہے کہ حسینہ واجد کو حکومت بنانے کےلیے 300 میں سے 151 نشتوں کر کامیابی حاصل کرنے کی ضرورت ہے، شیخ حسینہ واجد ڈھاکا میں اپنا ووٹ کاسٹ کرچکی ہیں۔

خیال رہے کہ انتخابات کا اعلان ہوتے ہی بنگلادیشی عدالت نے اپوزیشن جماعت بی این پی کی سربراہ و سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء سمیت 17 سربراہوں کو کرپشن اور دیگر الزامات کے تحت جیل بھیج دیا تھا، خالدہ ضیاء 17 برس قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ پولیس اب تک اپوزیشن جماعت 15 ہزار سے زائد کارکنوں کو بھی گرفتار کرچکی ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں