اتوار, جولائی 12, 2026
اشتہار

بنگلہ دیش میں حسینہ واجد حکومت کے خاتمے کے بعد بھی سیاسی تشدد جاری، ایک برس میں 300 ہلاکتیں

اشتہار

حیرت انگیز

ڈھاکہ(3 نومبر 2025): بنگلہ دیش میں حسینہ واجد حکومت کے خاتمے کے بعد سے سیاسی تشدد میں تقریباً تین سو افراد مارے جا چکے ہیں۔

اے ایف پی نے انسانی حقوق کی تنظیم اودھیکر کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ سیاسی احتجاج میں تشدد کا عنصر موجود ہے، جس میں عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

اگست 2024 سے رواں سال ستمبر کے اختتام تک سیاسی جماعتوں کے درمیان تشدد کے واقعات میں کم از کم دو سو اکیاسی افراد کی موت ہوئی اور سب سے زیادہ ماورائے عدالت 40 مشتبہ ملزمان کو قتل کیا گیا۔

اودھیکر کے ڈائریکٹر ناصرالدین ایلان کا کہنا ہے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اب بھی جوابدہ نہیں ٹھہرایا جا رہا۔ حراست میں اموات، رشوت ستانی اورمتاثرین کو ہراساں کرنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ معصوم لوگ شیخ حسینہ کی سیاسی جماعت عوامی لیگ سے مبینہ تعلق کی وجہ سے مظالم کا شکار ہو رہے ہیں” جو اب ممنوعہ ہے۔

حسینہ کے 15 سالہ دور حکومت میں سیاسی مخالفین کی بڑے پیمانے پر حراست اور عدالتی کارروائی کے بغیر قتل سمیت انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیاں ہوئیں۔

اودھیکر کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ حسینہ کے خاتمے کے ایک سال بعد سیاسی جماعتوں کی طرف سے بہت سے لوگ بھتہ خوری کا شکار ہوئے، چاہے ان کی مالی یا سماجی حیثیت کچھ بھی ہو، ان میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی شامل ہے، جو فروری 2026 میں ہونے والے انتخابات میں سب سے آگے سمجھی جا رہی ہے۔

 رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جماعت اسلامی، مسلم اکثریتی بنگلہ دیش کی سب سے بڑی اسلام پسند جماعت، کو بھی بھتہ خوری کی رپورٹس میں شامل کیا گیا۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں