The news is by your side.

Advertisement

برطانوی دور کا جیل مینو تبدیل، اب کھانے میں‌ مزے مزے کے پکوان ملیں گے

ڈھاکا : 19 ویں صدی میں برطانوی سامراج کی جیلوں میں قیدیوں کو روٹی کے ساتھ گُڑ دیا جاتا تھا، نئے مینیو میں روٹی کے ساتھ سبزی، پھل، مٹھائیاں اور دال میں پکے چاول دیئے جائیں گے۔

تفصیلا ت کے مطابق بنگلہ دیش کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کو ٹھونسے جانے پر ڈھاکہ حکومت کو عالمی سطح پر تنقید کا سامنا رہتا ہے، لیکن حال ہی میں بنگالی حکومت نے گزشتہ 200 سال سے قیدیوں کو دیا جانے والا ناشتہ تبدیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ بنگلادیش کی جیلوں میں گزشتہ 200 سالوں قیدیوں کو ایک ہی طرح کا ناشتہ دیا جارہا تھا جو برطانوی سامراج نے رائج کیا تھا۔

بنگلہ دیش میں جیل امور کے ڈپٹی ڈائریکٹر بزلور رشید نے کہا ہے کہ ملک کی تمام جیلوں میں قیدیوں کی تعداد 81 ہزار ہے، ان کے ناشتے کا مینیو تبدیل کردیا گیا، نئے ناشتے میں متنوع اشیاء کا اضافہ کیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ 19 ویں صدی میں برطانوی سامراج کی جیلوں میں قیدیوں کو روٹی کے ساتھ گُڑ دیا جاتا تھا، اس کے سوا قیدیوں کو اور کوئی چیز میسر نہیں تھی۔ بنگالی حکومت بھی دو سو سال تک اسی پر عمل پیرا رہی ہے اور اب اس نے قیدیوں کے ناشتے میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نئے مینیو میں روٹی کے ساتھ سبزی، پھل، مٹھائیاں اور دال میں پکے چاول دیئے جائیں گے، ماضی میں قیدیوں کو 116 گرام روٹی اور 14 اعشاریہ 5 گرام گڑ دیا جاتا رہا ہے۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کو ڈالنے پر انسانی حقوق کی تنظیمیں ڈھاکا پر شدید تنقید کرتی رہتی ہیں، بنگالی جیلوں میں 35 ہزار سے زاید افراد کو رکھنے کی گنجائش نہیں مگر وہاں پر بعض اوقات 60 سے 80 ہزار تک قیدیوں کو ٹھونس دیا جاتا ہے۔

بزلور رشید کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے ناشتے کے ’مینیو‘ میں تبدیلی جیل خانوں اور قیدیوں کے حوالے سے اصلاحات کے عمل کا حصہ ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں