ڈھاکہ(23 اکتوبر 2025): بنگلا دیش کی عدالت نے پانچ جنرلز سمیت پندرہ اعلیٰ فوجی افسران کی باقاعدہ گرفتاری کا حکم جاری کر تے ہوئے ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ بنگلہ دیش میں جبری گمشدگیوں کے باضابطہ الزامات عائد کیے گئے ہیں اور پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں فوجی افسران کو ایک سول عدالت میں مقدمے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ملزمان انسانیت کے خلاف جرائم، خفیہ ٹارچر سیل چلانے اور جبری گمشدگیوں کے الزام میں پہلے ہی بنگلا دیشی فوج کی حراست میں تھے جس میں بنگلا دیشی فوج کے چودہ حاضر سروس افسران بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان افراد میں پانچ جنرلز بھی شامل ہیں جن پر سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے دورِ حکومت میں ایک خفیہ حراستی مرکز چلانے کا الزام ہے۔
دوسری جانب بنگلہ دیشی فوج نے کہا ہے کہ وہ عدالتی کارروائی میں تعاون کرے گی تاہم جب سے رواں ماہ عدالت نے گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں، صورتحال کشیدہ ہے۔
چیف پراسیکیوٹر تاج الاسلام نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ انہوں نے ملک کے قانون کی پاسداری اور عدالتی عمل کے احترام کا اظہار کیا ہے، یہ اُن کے تعاون سے ظاہر ہوتا ہے جو انہوں نے فراہم کیا۔
واضح رہے کہ اس مقدمے کی سماعت انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل میں سماعت ہوئی، عدالت نے ملزمان کو پولیس کی حراست میں دے دیا، عدالت نے سابق وزیراعظم حسینہ واجد اور ان کے سیکیورٹی ایڈوائزر کی گرفتاری کیلئے اخبارات میں اشہتار دینے کا بھی حکم دیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


