بینکنگ محتسب نے2025 ء میں بینک صارفین کو 1.87بلین روپے سے زائد کا ریلیف فراہم کیا۔
بینکنگ محتسب پاکستان نے2025 ء کے دوران تجارتی بینکوں کے خلاف 36,280 شکایات کا تصفیۂ کرکے بینک صارفین کو 1.87 بلین روپے سے زائد کا ریلیف فراہم کیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال (2024 ء) 27,753 شکایات کو نمٹاتے ہوئے متاثرہ صارفین کو 1.65 بلین روپے کار یلیف فراہم کیا گیا تھا۔
بینکنگ محتسب پاکستان کی سالانہ رپورٹ برائے سال 2025 ء کے مطابق سال کے دوران نمٹائی جانے والی 36,280 شکایات میں سے 32,002 شکایات کو باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا گیا جبکہ 1,973 شکایات کا فیصلہ باقاعدہ سماعت کے بعد کیا گیا۔ اس سلسلے میں بینکنگ محتسب پاکستان کے ملک بھر میں مختلف مراکز میں ریکارڈ 2,206 سماعتیں ہوئیں۔
علاوہ ازیں، 2,305 شکایات نامکمل، غیر اہم ہونے اور بینکنگ محتسب کے اختیار سماعت میں نہ ہونے کے باعث مسترد کردی گئیں۔
سالانہ رپورٹ کے مطابق، زیر ِ جائزہ سال کے دوران 35,130 شکایات موصول ہوئیں جبکہ13,793 شکایات وہ تھیں جو گذشتہ برس تصفیۂ طلب رہ گئی تھیں۔زیر ِ جائزہ سال کے دوران وزیر ِ اعظم پورٹل کے توسط سے موصول ہونے والی بینکنگ سیکٹر سے متعلق شکایات کی مجموعی تعداد 7,342 رہی جو گذشتہ سال (2024) کے دوران موصول ہونے والی 7,193 شکایات کے مقابلے میں 2 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتی ہے، 2025 ء کے دوران بینکنگ محتسب پاکستان کے دفتر میں براہ راست جمع کرائی جانے والی شکایات کی تعداد 27,788 تھی ، جو گزشتہ سال موصول ہونے والی 23,409 شکایات کے مقابلے میں18 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔
سالانہ رپورٹ کے مطابق، 2025 ء کے دوران موصول ہونے والی کُل شکایات کی تعداد میں گذشتہ برس کے مقابلے میں مجموعی طور پر 15 فی صد اضافہ ہوا۔ تاہم شکایات کو نمٹائے جانے کی شرح میں 31 فی صد اضافے سے ایک واضح بہتری سامنے آئی جبکہ زیر ِالتواء رہنے والی شکایات کی شرح میں 8 فی صد کمی واقع ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق ڈیجیٹل اور الیکٹرانک ذرائع کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ساتھ موبائل اور ڈیجیٹل اپلیکیشنز کی تعداد میں اضافے کے باعث2025 ء کے دوران موصول ہونے والی شکایات کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا۔ قانونی تقاضوں کی تعمیل میں بینکنگ محتسب پاکستان اپنے ادارے کی سالانہ رپورٹ برائے2025ء گورنر، اسٹیٹ بینک جمیل احمد کو پیش کر چکے ہیں ۔
سالانہ رپورٹ کے مطابق، انٹرنیٹ بینکنگ/بینکوں کے مابین رقوم کی منتقلی (IBFT) /ای کامرس/موبائل اپلیکیشن/ڈیجیٹل بینکنگ دھوکہ دہی سے متعلق شکایات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا اور اِن شکایات کی تعدادجو 2024 ء میں 4535 تھی، 2025 ء میں بڑھ کر 5345 ہو گئی۔
دھوکہ دہی سے متعلق شکایات کی تعداد بھی گزشتہ سال(2024) کی 4171 شکایات سے بڑھ کر 2025 ء میں 4615 ہوگئی۔ اکاؤنٹس کی بندش/غیر فعال قرار دیئے جانے سے متعلق شکایات کی تعداد 2025 ء میں بڑھ کر 4766 ہوگئی جبکہ 2024 ء میں ان شکایات کی تعداد 3208 تھی۔ اس کے علاوہ غیر تسلی بخش خدمات/تاخیراور دیگر معاملات سے متعلق شکایات کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا اور اِن کی تعداد 2024 ء کی 2673 شکایات سے بڑھ کر 2025 ء میں 3596 ہو گئی۔ کنزیومر پروڈکٹس( کریڈٹ/ڈیبٹ کارڈز، ذاتی/آٹو/زرعی قرضے)سے متعلق شکایات کی تعداد میں کمی واقع ہوئی اور اِن کی تعداد 2024کی 2871 شکایات کے مقابلے میں کم ہوکر 2025 میں 2315 ہوگئی۔
اے ٹی ایمز (ATMs)سے متعلق شکایات کی تعداد میں بھی کمی واقع ہوئی اور یہ تعداد 2024کی 2144 شکایات سے کم ہوکر 2025 میں 1839 ہوگئی۔
عوام کو دھوکہ دہی کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے، بینکنگ محتسب پاکستان، جناب سراج الدین عزیز نے بینکوں کے صارفین پر زور دیاہے کہ اپنی ذاتی اور مالی معاملات سے متعلق معلومات کسی تیسرے فریق کو ہرگزفراہم نہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی مشکوک ٹیلیفون کال موصول ہونے پر وہ فوری طور پراپنے بینک کی قریب ترین شاخ یا متعلقہ بینک کی ہیلپ لائن پر رابطہ کریں۔
انجم وہاب اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں اور تجارت، صنعت و حرفت اور دیگر کاروباری خبریں دیتے ہیں


