مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے سرغنہ شوکت نواز کے بہنوئی نے انتشاری کمیٹی سے لاتعلقی کا اعلان کردیا۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق پروفیسر واجد نے کالعدم انتشاری کمیٹی کے گمراہ کن بیانیہ کو مسترد دیا اور انتشاری کمیٹی کے شرپسندوں سے سرنڈر کرنے کی اپیل کردی۔
پروفیسر واجد نے کہا کہ میں اس بات کا نظریہ رکھتا ہوں کہ کشمیر کا پاکستان سے رشتہ لاالہ الا للہ کی بنیاد پر قائم ہے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور میرا جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا کبھی حصہ رہا نہ کبھی رہوں گا، ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ سرنڈر کردیں۔
یہ پڑھیں: کالعدم ایکشن کمیٹی احتجاج چھوڑ کر جانے والے شہریوں کو ڈرانے اور دھمکانے لگی
پروفیسر واجد کا کہنا تھا کہ ایکشن کمیٹی، حکومت پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر سے مذاکرات کرے، ہم نے مل کر پاکستان کو دنیا کی چھٹی بڑی معیشت بنانا ہے۔
اس سے قبل ترجمان آئی جی آزاد جموں و کشمیر پولیس کا کہنا تھا کہ کالعدم عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی معصوم لوگوں کو ورغلا اور لالچ دے کر راولاکوٹ لائی تھی، کشمیر کے مختلف اضلاع کے افراد شرپسند کمیٹی کے رہنماؤں کے مجرمانہ کردار اور شرپسندی کے باعث احتجاج چھوڑ کر واپس جانا چاہتے ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ واپس اپنے گھروں کو جانے کے خواہشمند افراد کو انتشاری کمیٹی کی جانب سے سوشل میڈیا اکاونٹس کے ذریعے دھمکیاں دی جا رہی ہیں، احتجاج چھوڑ کر جانے والوں کو گرفتار کرنے کی بات سراسر بے بنیاد، غلط، جھوٹی اور گمراہ کن پروپیگنڈا ہے۔


