جمعہ, جون 12, 2026
اشتہار

معروف ناول نگار بانو قدسیہ کی برسی

اشتہار

حیرت انگیز

ناول اور افسانہ نگاری ہی بانو قدسیہ کی ایک شناخت نہیں بلکہ وہ ہر طبقۂ عوام میں مقبول تھیں جس کی وجہ مشرقی روایت اور ثقافت کے آئینے میں بانو قدسیہ کا اپنے معاشرے کے مسائل اور رشتے ناتوں سے متعلق خامیوں کو دیکھنا اور لوگوں میں اس کا شعور اور احساس پیدا کرنا تھا۔ شفیق و دھیمے لہجے کی مالک بانو قدسیہ نے ناپختہ اور کچّے ذہنوں کو صبر، برداشت اور مفاہمت کا درس دیا اور اپنے افکار اور خیالات سے ان کی تربیت کرتی رہیں۔ آج بانو قدسیہ کی برسی ہے۔

بانو قدسیہ 2017ء میں آج ہی کے روز لاہور میں انتقال کرگئی تھیں۔ معروف ناول نگار بانو قدسیہ برطانوی ہند میں 28 نومبر 1928ء کو ایک زمین دار گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ وہ تعلیم یافتہ گھرانے کی فرد تھیں۔ تقسیمِ ہند کے بعد انھوں نے لاہور کا رخ کیا اور یہاں اپنے قلمی اور ادبی سفر میں نام و مقام پیدا کیا۔ ان کی شادی معروف ناول نگار اور دانش ور اشفاق احمد سے ہوئی۔

بانو قدسیہ کو شروع ہی سے اردو ادب کا بے حد شوق تھا۔ وہ بچوں کے رسالے، ادبی جرائد باقاعدگی سے پڑھا کرتی تھیں۔ بانو قدسیہ نے کنیئرڈ کالج لاہور برائے خواتین سے ریاضیات اور اقتصادیات میں گریجویشن کے بعد 1951ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی۔ اپنے پڑھنے لکھنے کے شوق کی تکمیل کے لیے انھوں نے اپنے کالج کے زمانے سے ہی رسالوں میں لکھنا شروع کردیا تھا اور پھر وہ ریڈیو کے لیے لکھنے لگیں۔ یہ اس دور میں ایک بڑا مقبول میڈیم ہوا کرتا تھا۔ لوگ بہت شوق سے ریڈیو پر ڈرامہ سنتے اور مختلف علمی و ادبی پروگرام اور موسیقی کے پروگرام سنتے تھے۔ اسی دور میں‌ بانو قدسیہ کا نام گھر گھر لیا جانے لگا۔ ڈرامے اور مختلف ریڈیو پروگراموں کے اسکرپٹ کے ساتھ افسانہ نگاری اور پھر اردو ناول لکھنے کا سلسلہ بھی بانو قدسیہ نے جاری رکھا۔ ’راجہ گدھ‘ ان کا وہ ناول تھا جو بہت مقبول ہوا۔ اس کے علاوہ ’امر بیل‘ نے بھی بانو قدسیہ کو شہرت دی۔ حاصل گھاٹ بھی انہی کا ایک مقبول ناول ہے۔ بانو قدسیہ نے ریڈیو کے ساتھ اسٹیج اور ٹیلی ویژن کے لیے پنجابی اور اردو زبان میں ڈراموں کے اسکرپٹ لکھے۔ ان کے ڈراموں میں ’پیا نام کا دیا‘، ’فٹ پاتھ کی گھاس‘، ’آدھی بات‘ اور دیگر شامل ہیں۔

بانو قدسیہ کی تحریروں کا بنیادی موضوع محبت کی تلخ حقیقت، جذبات اور احساسات کے ساتھ زندگی کے نشیب و فراز ہوتے تھے اور ان کا مقصد وفا، برداشت، ایثار کو فروغ دینا رہا۔

بانو قدسیہ کو 1983ء میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے ہلالِ امتیاز اور 2010ء میں ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا۔ 2012ء میں بانو قدسیہ کو کمالِ فن ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔ راہِ رواں بانو قدسیہ کی ایک کتاب کا نام ہے جس سے ہم ایک پارہ نقل کررہے ہیں۔ ملاحظہ کیجیے:

ہر انسان چالیس کے لگ بھگ پہنچ کر midlife کے (crisis) اور اس سے جنم لینی والی تبدیلیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس عمر کو پختگی کی عمر کہہ لیجیے لیکن یہی عمر ہے جب عام آدمی بڑی بڑی غلطیاں کرتا ہے۔ اور عمل میں نا پختگی کا ثبوت دیتا ہے۔

تبدیلی کو خاموشی سے قبول نہ کرنے کی وجہ سے کئی بار انسان کا (image) سوسائٹی میں بالکل برباد ہو جاتا ہے۔ پے در پے شادیاں، معاشقے، معیارِ زندگی کو بلند کرنے کے لیے دربدر کی ٹھوکریں، ماں باپ سے ہیجانی تصادم، اولاد سے بے توازن رابطہ غرضیکہ اس عہد کی تبدیلی میں زلزلے کی سی کیفیت ہوتی ہے۔ آخری تبدیلی عموماً بڑھاپے کے ساتھ آتی ہے جب نہ اشیاء سے لگاؤ رہتا ہے، نہ انسانی رشتے ہی با معنی رہتے ہیں۔ اب اطمینانِ قلب صرف ذکرِ الٰہی سے حاصل ہوتا ہے لیکن یہ بھی نصیب کی بات ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں