جمعہ, مارچ 6, 2026
اشتہار

بپی لہری کا تذکرہ جو ‘ڈسکو کنگ’ کہلائے

اشتہار

حیرت انگیز

پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں میں ادب و فنون کی دنیا کی باکمال شخصیات کو اپنے فن اور تخلیقات کے سبب شہرت اور پذیرائی ملی۔ ان کے کام کو سرحدوں کے پار بھی سراہا گیا۔ سُر سنگیت ان ملکوں کے مابین ہوا کے دوش پر سفر کرتے رہے ہیں۔ 80ء کی دہائی میں اسی خوب صورت سفر میں ایک آواز اور شامل ہوئی جو بپّی لہری کی تھی۔ ان کی فلمی گائیکی نے شائقین کی توجہ حاصل کی اور اگلے برسوں میں وہ ‘ڈسکو کنگ’ کے نام سے مشہور ہوگئے۔ کہا جاتا ہے کہ بطور گلوکار بپّی لہری نے بھارت میں ڈسکو میوزک کو مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

گلوکاری کے ساتھ بپّی لہری کو بطور موسیقار بھی پہچانا جاتا ہے جو اپنے مداحوں میں اپنے شوخ گیتوں کے ساتھ اپنے ‘ڈسکو حلیے’ کی وجہ سے بھی مشہور ہوئے۔ وہ زرق برق لباس کے ساتھ سونے کے زیورات پہن کر پرفارمنس دیتے تھے۔ ان کے چہرے پر خوب صورت فریم والا چشمہ بھی ان کی پہچان بن گیا تھا۔ بھارتی فلم انڈسٹری کے اس مشہور گلوکار نے 15 فروری 2022ء کو یہ دنیا ہمیشہ کے لیے چھوڑ دی۔ وہ اپنی موت سے ایک روز قبل ہی اسپتال سے گھر لوٹے تھے۔ بپّی لہری تقریباً ایک ماہ زیرِ علاج رہے تھے۔ وہ کورونا کی وبا کا بھی شکار ہوئے تھے اور مکمل صحت یابی کے بعد ان کو اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا تھا، تاہم گھر پر اچانک طبعیت بگڑ گئی اور بپّی لہری زندگی کی بازی ہار گئے۔

بولی وڈ کی مشہور فلم ‘نمک حلال’،’ڈسکو ڈانسر’ اور ڈانس ڈانس کے لیے بپّی لہری نے ڈسکو گانے ریکارڈ کروائے تھے جو بہت مقبول ہوئے۔ بطور موسیقار انھوں نے 700 سے زائد فلموں کے لیے موسیقی دی اور کئی فلمی گیت ان کی آواز میں‌ ہندوستان اور پاکستان میں‌ بھی مقبول ہوئے۔

گلوکار بپّی لہری کا تعلق مغربی بنگال کے علاقہ جلپائی گوڑی سے تھا۔ وہ 1952ء میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام آلوکیش لہری تھا اور فلم کی دنیا میں بپی لہری کے نام سے پہچانے گئے۔ گانا بجانا اور موسیقی ان کو ورثے میں ملی تھی۔ کیوں کہ ان کے والد اپریش لہری اور والدہ بنساری لہری بنگلہ زبان کے گلوکار اور موسیقار تھے۔ بپّی لہری چھوٹے تھے جب انھیں موسیقی سے لگاؤ ہوگیا۔ تین چار سال کی عمر میں وہ طبلہ بجانے لگے۔ والدین کی وجہ سے گھر کا ماحول راگ راگنیوں اور ساز و آواز کی خوشبو میں بسا ہوا تھا اور بپی لہری کا اس سے متاثر ہونا فطری بات تھی۔

فلمی دنیا کے لیے گلوکار نے زیادہ تر پارٹی ڈانس کے مناظر کے لیے موسیقی ترتیب دی۔ بولی وڈ میں بپّی لہری نے پہلی مرتبہ بطور موسیقار 1973ء میں کام کیا تھا۔ فلم ’ننھا شکاری‘ کے سارے گیت انہی کی موسیقی سے سجے تھے۔ فلم ’شرابی‘ ریلیز ہوئی تو ہر طرف اس کی دھوم مچ گئی اور سنہ 1985ء میں بپّی لہری کو اس فلم کے بہترین میوزک ڈائریکٹر کا انعام ملا۔ اس کے بعد ایک سال کے دوران وہ سب سے زیادہ گیت ریکارڈ کرنے کا ریکارڈ قائم کرنے والے موسیقار بن گئے۔ سنہ 2018ء میں انھیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا۔ انھوں نے سنہ 2020ء میں فلم ’باغی 3‘ کی موسیقی ترتیب دی تھی اور یہی اُن کی آخری فلم تھی۔

بپّی لہری نے سیاست میں بھی قسمت آزمائی۔ وہ سنہ 2014ء میں بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہوئے اور عام انتخابات میں الیکشن لڑا مگر کام یاب نہ ہوسکے۔ اس سے قبل سنہ 2004ء بپی لہری کانگریس کی انتخابی مہم میں بھی حصّہ لے چکے تھے۔

مشہور بھارتی گلوکار اور موسیقار نے اپنے مخصوص حلیے اور شوخ انداز کے بارے میں‌ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ امریکی راک اسٹار ‘ایلوس پریسلے’ کے بہت بڑے مداح تھے اور اسے سونے کی چین پہنے دیکھتے تھے تو انھیں بھی خیال آیا کہ وہ اپنا ایک الگ امیج بنائیں، تب انھوں نے زیورات اور کڑے وغیرہ پہننا شروع کیے۔ انھیں بھارتی اخبارات اور دوسرے ذرایع ابلاغ ‘گولڈن مین’ لکھتے اور پکارتے تھے۔ بپّی لہری کے نزدیک سونا اور چاندی ان کی خوش قسمتی کی علامت تھے۔

بپی لہری نے اپنے طویل اور شان دار کیریئر میں کئی لیجنڈری گلوکاروں کے ساتھ کام کیا، جن میں محمد رفیع، کشور کمار، لتا منگیشکر، آشا بھوسلے شامل ہیں۔ مشہور فلمی گلوکار اور اداکار کشور کمار، بپّی لہری کے ماموں تھے۔ بپّی لہری انھیں ’ماما جی‘ کہتے تھے۔

گریمی ایوارڈ حاصل کرنا بپّی لہری کی وہ خواہش تھی جو پوری نہ ہوسکی، لیکن وہ اس ایوارڈ کی جیوری کے رکن ضرور رہے تھے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں