ہفتہ, مارچ 14, 2026
اشتہار

باقر نقوی: ممتاز مترجم اور شاعر

اشتہار

حیرت انگیز

باقر نقوی کا اختصاص تو عالمی ادب سے تخلیقات اور تحریروں کو اردو میں منتقل کرنا ہے، لیکن اس سے پہلے وہ اردو ادب میں ایک شاعر اور افسانہ نگار کے طور پر پہچانے گئے اور پھر علمی و ادبی محقق کی حیثیت سے ان کی تصانیف یادگار ثابت ہوئیں۔ کئی کتابوں کے مصنّف باقر نقوی کے قلم کا امتیاز یہ بھی ہے کہ انھوں نے جدید سائنسی موضوعات پر کتب کو اپنی تحقیقی بصیرت اور ترجمے کی صلاحیت سے اردو میں منتقل کیا ہے۔

سید محمد باقر نقوی المعروف باقر نقوی 2019ء میں آج ہی کے روز انتقال کرگئے تھے۔ ان کی رحلت پر امجد اسلام امجد نے اپنے اخباری کالم میں‌ لکھا تھا، باقر بھائی پیشے کے اعتبار سے انشورنس سے متعلق تھے جب کہ شاعری ان کی پہلی محبت اور علمی تحقیق اور ترجمہ نگاری سے ان کو جنون کی حد تک وابستگی تھی۔ تینوں شعبوں میں انھوں نے بہت کامیاب زندگی گزاری اور ایسا وقیع خزانہ اپنی یادگار چھوڑا ہے جس کی مثال ان کے بہت ہی کم ہم عصروں میں بھی شاید ہی مل سکے۔

باقر نقوی 1936 میں الہٰ آباد، اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ہجرت کے بعد یہ خاندان کراچی میں آبسا۔ 55ء میں باقر نقوی کے والد انتقال کرگئے اور تب انھیں کئی معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ مطالعہ کی عادت اور تعلیم کے ساتھ علمی و ادبی ذوق و شوق بھی نکھرتا چلا گیا۔ انھوں نے انشورنس کمپنی میں ملازمت اختیار کرلی اور اس شعبہ میں ان کا کیریئر ایک سمت میں آگے بڑھنے لگا۔ بعد کے برسوں میں وہ کئی مشہور انشورنس اداروں سے وابستہ ہوئے اور وہاں اعلیٰ عہدوں‌ پر فائز رہے۔

شاعر، ادیب اور مترجم باقر نقوی نے تحقیقی کام اور ترجمہ کے میدان میں اپنا راستہ سب سے الگ نکالا۔ دراصل یہ نوبل انعام یافتگان کے فن و شخصیت پر تحقیق اور تراجم کا سلسلہ تھا۔ نوبل پرائز کے بانی الفریڈ کی زندگی اور خدمات پر ان کی تصنیف کو اردو میں اگرچہ اپنی نوعیت کی پہلی کتاب نہیں مگر اہم کتاب ضرور کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد باقر نقوی نے نوبل انعام اور انعام یافتہ شخصیات کی سرگزشت، ان کے یادگاری خطاب اور کارناموں پر تحقیق کے کام کو مسلسل جاری رکھا اور سو سے زائد انعام یافتہ ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں بنیادی اور مصدقہ معلومات کو یکجا کیا۔ حیاتیات میں جن سائنس دانوں کو نوبیل انعام ملا، ان کی نوبیل تقاریر کا بھی انھوں نے ترجمہ کیا۔ کئی مغربی ناول بھی ترجمہ ہوکر ان کے قلم سے نکلے۔ انھوں نے نوبیل انعام یافتہ جرمن ادیب گنٹر گراس کے مشہور و معروف ناول کو ’’نقارہ‘‘ کے نام سے شایع کرایا۔ وہ شاعر تھے، سائنس سے انھیں گہرا شغف تھا، انھوں نے مختلف جہتوں میں اتنا کام کیا کہ جو ادارے بھی نہیں کر پاتے۔

شاعری کی بات کی جائے تو کئی دہائیوں پہلے وہ اس سفر کا آغاز کرچکے تھے۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ تازہ ہوا کا پہلا ایڈیشن 1988ء میں لندن، دوسرا ایڈیشن اگلے برس دہلی سے جب کہ تیسرا ایڈیشن کراچی سے اور چوتھا ایڈیشن دیوناگری میں الہ آباد سے شائع ہوا۔ دوسرا مجموعہ مٹھی بھر تارے 1991 میں لندن، تیسرا مجموعہ موتی موتی رنگ 1997 ء لاہور سے شائع ہوا ہے ۔ باقر نقوی کی غزلوں کا ایک اور انتخاب ہندی زبان میں الہ آباد سے گنگا جمنا سار موتی کے نام سے شائع ہوا۔ ان کا کلیات دامن کے عنوان سے منظر عام پر‌ آیا تھا۔ مشہور شاعر اور کالم نگار ڈاکٹر حسن رضوی مرحوم نے اپنی کتاب بہ عنوان بالمشافہ میں ایک انٹرویو کے دوران باقر نقوی سے سوال کیا کہ آپ نے شعری اصناف میں غزل ہی کو کیوں چنا جس پر باقر نقوی کہتے ہیں کہ نجانے کیوں غزل ہی مجھے اچھی لگتی ہے۔ جو بات ایک پوری نظم میں کہی جاتی ہے غزل کے ایک شعر میں سما جاتی ہے اور ایجاز کا یہ کرشمہ ہی غزل کا جادو ہے۔

وکٹر ہیوگو جو دنیا کے عظیم ادیبوں میں شمار کیا جاتا ہے اور جس کا ناول ’’لامزرا بیل‘‘ ایک ادبی شاہکار ہے، باقر نقوی نے اس ضخیم ناول کا ترجمہ ’’مضراب‘‘ کے عنوان سے دو جلدوں میں پیش کیا جو بہت مقبول ہوا۔ انھوں نے مصنوعی ذہانت کے عنوان سے بھی کتاب کو اردو روپ دیا جو جدید عہد میں اپنی نوعیت کی اہم کتاب ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں